Surah At Tahrim Ayat 11 (66:11)
The Prohibition · Juz 28 · Madani
وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَۘ-اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ 11
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اللہ نے مسلمانو ں کے لئے فرعون کی بیوی کو مثال بنا دیا جب اس نے عرض کی، اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات عطا فرما۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اللہ مسلمانو ں کی مثال بیان فر ماتا ہے فرعون کی بی بی جب اس نے عرض کی اے میرے رب میرے لیے اپنے پاس جنت میں گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے کام سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات بخش۔
Tafseer (Urdu)
{و ضرب الله مثلا للذین امنوا امرات فرعون: اور اللہ نے مسلمانو ں کیلئے فرعون کی بیوی کو مثال بنادیا۔} اس سے پہلی ایت میں کافروں کے لئے مثال بیان فرمائی گئی اور اس ایت میں مسلمانوں کے لئے مثال بیان فرمائی جا رہی ہے کہ انہیں دوسرے کا گناہ نقصان نہیں دے گا۔اس کا پس منظر اور خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے جادو گروں کو مغلوب کیا تو فرعون کی بیوی اسیہ آپ پر ایمان لے آئیں فرعون کو خبر ہوئی تو اس نے انہیں سخت سزادی اور چارمیخوں سے اپ کے ہاتھ پاوں بندھوا دئیے سینے پر بھاری چکی رکھ دی اور اسی حال میں انہیں سخت دھوپ میں ڈال دیا ۔جب فرعون کی سختیاں بڑھ گئیں تو حضرت اسیہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کی: اے میرے رب!میرے لیے اپنے پاس جنت میں گھر بنا دے۔ اللہ تعالی نے ان کا جنتی مکان ان پر ظاہر فرمایا اور اس کی خوشی میں ان پر فرعون کی سختیوں کی شدت اسان ہوگئی۔پھر عرض کی:مجھے فرعون اس کے کفر و شرک اور ظلم سے نجات دے اور مجھے فرعون کے دین والے ظالم لوگوں سے نجات عطا فرماچنانچہ ان کی یہ دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالی نے ان کی روح قبض فرمالی۔ (تو جس طرح فرعون کے کفر نے حضرت اسیہ رضی اللہ تعالی عنہا کو کوئی نقصان نہ پہنچایا اور اس کی وجہ سے اپ کو کوئی عذاب نہیں ہوااسی طرح مسلمانوں کو ان کے رشتہ داروں کا کفر نقصان نہیں پہنچائے گا اور ان کے کفر کی وجہ سے مسلمانوں کو عذاب نہ ہو گا۔)( خازن التحریم تحت الایۃ: ۱۱ ۴ / ۲۸۸ جلالین التحریم تحت الایۃ: ۱۱ ص۴۶۶ ملتقطا) ایت ’’ اذ قالت رب ابن لی عندك بیتا فی الجنة ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے 3 باتیں معلوم ہوئیں (1)… جنت میں وہ گھر زیادہ درجے والا ہے جس میں بندے کو اللہ تعالی کا قرب زیادہ ہو۔ (2)… اللہ کی محبت میں اس سے ملاقات کے شوق میں موت کی تمنا اور دعاکرنا جائز ہے۔ (3)…اللہ تعالی سے پناہ طلب کرنااس کی بارگاہ میں التجائیں کرنامشکلات اور مصائب میں اس سے خلاصی کا سوال کرنا نیک بندوں کی سیرت ہے۔