Surah At Tahrim Ayat 12 (66:12)
The Prohibition · Juz 28 · Madani
وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ 12
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور عمران کی بیٹی مریم کو (مثال بنا دیا) جس نے اپنے پارسائی کے مقام کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی طرف کی روح پھونکی اور اس نے اپنے رب کی باتوں اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور عمران کی بیٹی مریم جس نے اپنی پارسائی کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی طرف کی روح پھونکی اور اس نے اپنے رب کی باتوں اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور فرمانبرداروں میں ہوئی۔
Tafseer (Urdu)
{و مریم ابنت عمرن التی احصنت فرجها: اور عمران کی بیٹی مریم کو (مثال بنا دیا) جس نے اپنے پارسائی کے مقام کی حفاظت کی۔} اس سے پہلی ایت میں مسلمانوں کے لئے اس خاتون کی مثال بیان کی گئی جن کا شوہر تھا اور اس ایت میں اس خاتون کی مثال بیان کی جا رہی ہے جن کا شوہر نہیں تھاچنانچہ اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت عمران رضی اللہ تعالی عنہ کی بیٹی حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کو مثال بنادیاجنہوں نے اپنی پارسائی کی حفاظت کی اور کسی مرد نے اپ کو نہیں چھوااور اللہ تعالی نے حضرت جبریل علیہ السلام کے ذریعے اس میں اپنی طرف کی روح پھونکی اور اس نے اپنے رب عزوجل کی باتوں اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھی۔ یہاں رب عزوجل کی باتوں سے وہ شرعی احکام مراد ہیں جو اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے لئے مقرر فرمائے اورکتابوں سے وہ کتابیں مراد ہیں جو انبیاء کرام علیہ م الصلوۃ والسلام پر نازل ہوئی تھیں ۔( روح البیان التحریم تحت الایۃ: ۱۲ ۱۰ / ۷۰ خازن التحریم تحت الایۃ: ۱۲ ۴ / ۲۸۸ مدارک التحریم تحت الایۃ: ۱۲ ص۱۲۵۹ ملتقطا) حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کے فضائل: حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ اپ کے سواکسی عورت کانام قران مجید میں نہیں ایا نیز اپ رضی اللہ تعالی عنہا کو یہ فضیلت بھی حاصل ہو گی کہ جنت میں سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ازواج میں سے ہوں گی ۔نیزحضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپ کو کامل خواتین میں شمار فرمایا ہے جیسا کہ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’مردوں میں کامل بہت ہیں اورعورتوں میں سے کامل حضرت اسیہ رضی اللہ تعالی عنہا اور حضرت مریم بنت عمران رضی اللہ تعالی عنہا ہیں اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی فضیلت عورتوں پرایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر ہے۔( بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب قول اللہ تعالی : و ضرب اللہ مثلا للذین امنوا امراۃ فرعون ۔۔۔ الخ ۲ / ۴۴۵ الحدیث: ۳۴۱۱) ایت ’’ فنفخنا فیه من روحنا‘‘ سے حاصل ہونے و الی معلومات: اس ایت سے تین باتیں معلوم ہوئیں (1)… پھونک حضرت جبریل علیہ السلام نے ماری اور اللہ تعالی نے فرمایا:’’ہم نے پھونکااس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کے مقبول بندوں کا کام درحقیقت اللہ تعالی کا کام ہے ۔ (2)… فیض دینے کے لئے دم کرنا فرشتوں کی سنت ہے مشائخ کے دم درود کی اصل یہ ایت کریمہ ہے نیز کثیر احادیث صحیحہ سے بھی دم کرنا ثابت ہے۔ (3)… حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو روح اللہ اس لئے کہتے ہیں کہ اپ کی پیدائش روح الامین کی پھونک سے ہے۔