Surah At Tahrim Ayat 6 (66:6)
The Prohibition · Juz 28 · Madani
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ 6
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، اس پر سختی کرنے والے، طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے ایمان والواپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اس پر سخت کرّے فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کا حکم نہیں ٹالتے اور جو انھیں حکم ہو وہی کرتے ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{یایها الذین امنوا قوا انفسكم و اهلیكم نارا: اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ۔} یعنی اے ایمان والو!اللہ تعالی اور ا س کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی فرمانبرداری اختیار کرکے عبادتیں بجالا کر گناہوں سے باز رہ کراپنے گھر والوں کو نیکی کی ہدایت اور بدی سے ممانعت کرکے اور انہیں علم و ادب سکھا کراپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ۔ یہاں ادمی سے کافر اور پتھر سے بت وغیرہ مراد ہیں اور معنی یہ ہے کہ جہنم کی آگ بہت ہی شدیدحرارت والی ہے اور جس طرح دنیا کی آگ لکڑی وغیرہ سے جلتی ہے جہنم کی آگ اس طرح نہیں جلتی بلکہ ان چیزوں سے جلتی ہے جن کا ذکر کیا گیا ہے۔ مزید فرمایا کہ جہنم پر ایسے فرشتے مقرر ہیں کہ جو جہنمیوں پر سختی کرنے والے اور انتہائی طاقتورہیں اور ان کی طبیعتوں میں رحم نہیں وہ اللہ تعالی کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔( خازن التحریم تحت الایۃ: ۶ ۴ / ۲۸۷ مدارک التحریم تحت الایۃ: ۶ ص۱۲۵۸ ملتقطا) ہر مسلمان پر اپنے اہل خانہ کی اسلامی تعلیم وتربیت لازم ہے: اس ایت سے معلوم ہواکہ جہاں مسلمان پر اپنی اصلاح کرنا ضروری ہے وہیں اہل خانہ کی اسلامی تعلیم و تربیت کرنابھی اس پر لازم ہےلہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے بیوی بچوں اور گھر میں جو افراد اس کے ماتحت ہیں ان سب کو اسلامی احکامات کی تعلیم دے یادلوائے یونہی اسلامی تعلیمات کے سائے میں ان کی تربیت کرے تاکہ یہ بھی جہنم کی اگ سے محفوظ رہیں ۔ترغیب کے لئے یہاں اہل خانہ کی اسلامی تربیت کرنے اور ان سے احکام شرعیہ پر عمل کروانے سے متعلق3احادیث ملاحظہ ہوں : (1)… حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہےتاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’تم میں سے ہرشخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گاچنانچہ حاکم نگہبان ہےاس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ادمی اپنے اہل خانہ پر نگہبان ہےاس سے اس کے اہل خانہ کے بارے سوال کیا جائے گا۔عورت اپنے شوہر کے گھر میں نگہبان ہے اس سے ا س کے بارے میں پوچھا جائے گاخادم اپنے مالک کے مال میں نگہبان ہے اس سے اس کے بارے میں سوال ہو گاادمی اپنے والد کے مال میں نگہبان ہے اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گاالغرض تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اس سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال ہوگا۔( بخاری کتاب الجمعۃ باب الجمعۃ فی القری والمدن ۱ / ۳۰۹ الحدیث: ۸۹۳) (2)…حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہےسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو انہیں مار کر نماز پڑھاو اور ان کے بستر الگ کر دو۔( ابو داود کتاب الصلاۃ باب متی یومر الغلام بالصلاۃ ۱ / ۲۰۸ الحدیث: ۴۹۵) (3)…حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےرسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالی اس شخص پر رحم فرمائے جو رات میں اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی (نماز کے لئے) جگائے اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔اللہ تعالی اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کے وقت اٹھےپھرنماز پڑھے اور اپنے شوہر کو جگائے اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔( ابو داود کتاب التطوع باب قیام اللیل ۲ / ۴۸ الحدیث: ۱۳۰۸) پانی کے چھینٹے مارنے کی اجازت اس صورت میں ہے جب جگانے کے لئے بھی ایسا کرنے میں خوش طبعی کی صورت ہو یا دوسرے نے ایسا کرنے کا کہا ہو۔اللہ تعالی ہمیں اپنے اہل خانہ کی صحیح اسلامی تعلیم وتربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔ جہنم کے خوف سے روح پرواز کر گئی : یہاں اسی ایت سے متعلق ایک حکایت ملاحظہ ہوچنانچہ حضرت منصور بن عمار رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : میں نے حج کیااور (سفر کے دوران) کوفہ کے ایک سرائے میں ٹھہراپھر میں ایک اندھیری رات میں باہر نکلا تو ادھی رات کے وقت کسی کی درد بھری اواز سنی اور وہ یوں کہہ رہا تھاـ:اے اللہ! عزوجل تیری عزت و جلال کی قسم!میں نے جان بوجھ کر تیری نافرمانی اور مخالفت نہیں کی اور مجھ سے جب بھی تیری نافرمانی ہوئی میں اس سے ناواقف نہیں تھا لیکن خطا کرنے پر میری بد بختی نے میری مدد کی اور تیری ستاری (کی امید) نے مجھے گناہ پر ابھارا اور بے شک میں نے اپنی نادانی کی بنا پر تیری نافرمانی اور مخالفت کی تو اب تیرے عذاب سے مجھے کون بچائے گااگر تو نے مجھ سے اپنی (رحمت وعنایت کی) رسی کاٹ لی تو میں کس کی رسی کو تھاموں گا۔جب وہ اپنی اس التجاء سے فارغ ہوا تو میں نے قران مجید کی یہ ایت تلاوت کی: ’’قوا انفسكم و اهلیكم نارا و قودها الناس و الحجارة علیها ملىكة غلاظ شداد لا یعصون الله ما امرهم و یفعلون ما یؤمرون‘‘ ترجمہکنزالعرفان: اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اس پر سختی کرنے والے طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ پھر میں نے ایک شدید حرکت سنی اور اس کے بعد کوئی اواز نہ سنائی دی ۔ میں وہاں سے چلا گیا اور دوسرے دن اپنی رہائش گاہ میں لوٹا تو دیکھا کہ ایک جنازہ رکھاہوا ہے۔میں نے وہاں موجود ایک بوڑھی خاتون سے میت کے بارے میں پوچھا اور وہ مجھے نہیں جانتی تھیـ اس نے کہا:رات کے وقت یہاں سے ایک مرد گزرا اس وقت میرا بیٹا نماز پڑھ رہا تھا اس ادمی نے قران مجید کی ایک ایت پڑھی جسے سن کر میرے بیٹے کاانتقال ہو گیا ہے۔( مستدرک کتاب التفسیر تفسیر سورۃ التحریم حکایۃ اخری فی خشیۃ اللہ تعالی ۳ / ۳۱۸ الحدیث: ۳۸۸۲)