Surah Al Mulk Ayat 16 (67:16)
The Sovereignty · Juz 29 · Makki
ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُ 16
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا تم اُس (اللہ ) سے بے خوف ہوگئے جس کی سلطنت آسمان میں ہے اس بات میں کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسادے تووہ زمین اچانک کانپنے لگے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا تم اس سے نڈر ہوگئے جس کی سلطنت آسمان میں ہے کہ تمہیں زمین میں دھنسادے جبھی وہ کانپتی رہے۔
Tafseer (Urdu)
{ءامنتم من فی السمآء: کیا تم اس سے بے خوف ہوگئے جس کی سلطنت آسمان میں ہے۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت میں اللہ تعالی نے کفارمکہ کو اپنے عذاب سے ڈراتے ہوئے فرمایا کہ اے کفارمکہ!جس رب تعالی کی سلطنت اسمان میں ہے اس کی نافرمانی کر کے کیا تم اس بات میں اس سے بے خوف ہو گئے کہ وہ قارون کی طرح تمہیں بھی زمین میں دھنسا دے اور اس وقت تک زمین کو حرکت میں رکھے جب تک تم اس کے سب سے نچلے حصے میں نہ پہنچ جاو۔یا جس رب تعالی کی سلطنت اسمان میں ہے اس کی نافرمانی کر کے کیا تم اس بات میں اس سے بے خوف ہوگئے کہ وہ حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کی طرح تم پر بھی پتھراؤ بھیجےتو عذاب دیکھ کر تم جلد جان لو گے کہ میرا اپنے عذاب سے ڈراناکیسا تھا( خازن الملک تحت الایۃ: ۱۶-۱۷ ۴ / ۲۹۱ سمرقندی الملک تحت الایۃ: ۱۶-۱۷ ۳ / ۳۸۸ ملتقطا) اللہ تعالی کے عذاب سے بے خوف نہ ہوا جائے:ـ اسی عذاب کا ذکر کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’افامنتم ان یخسف بكم جانب البر او یرسل علیكم حاصبا ثم لا تجدوا لكم وكیلا‘‘(بنی اسرائیل:۶۸) ترجمہ کنزالعرفان: کیا تم اس بات سے بے خوف ہوگئےکہ اللہ تمہارے ساتھ خشکی کا کنارہ زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر بھیجے پھر تم اپنے لئے کوئی حمایتی نہ پاو ۔ اور ارشاد فرمایا: ’’ قل هو القادر على ان یبعث علیكم عذابا من فوقكم او من تحت ارجلكم‘‘(انعام:۶۵) ترجمہ کنزالعرفان: تم فرماؤ وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے یا تمہارے قدموں کے نیچے سے عذاب بھیجے۔ اور یہ اللہ تعالی کا اپنی مخلوق پر لطف و کرم اور اس کی رحمت ہے کہ انہیں عذاب دینے پر قادر ہونے کے باوجود ان کے کفر اور گناہوں کی وجہ سے فوری عذاب نازل نہیں کرتا بلکہ اسے موخر فرما دیتا ہے جیساکہ ارشاد باری تعالی ہے: ’’و لو یؤاخذ الله الناس بما كسبوا ما ترك على ظهرها من دآبة و لكن یؤخرهم الى اجل مسمى-فاذا جآء اجلهم فان الله كان بعباده بصیرا‘‘(فاطر:۴۵) ترجمہ کنزالعرفان: اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب پکڑتا تو زمین کی پیٹھ پر کوئی چلنے والانہ چھوڑتا لیکن وہ ایک مقرر میعاد تک انہیں ڈھیل دیتا ہے پھرجب ان کی مقررہ مدت آئے گی تو بیشک اللہ اپنے تمام بندوں کو دیکھ رہا ہے۔ لہذا اس کی رحمت اور کرم کے پیش نظر اس کے عذاب سے بے خوف ہو جانابہت بڑی نادانی اور کم عقلی ہے۔