Surah Al Mulk Ayat 25 (67:25)
The Sovereignty · Juz 29 · Makki
وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ 25
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاوروہ کہتے ہیں : یہ وعدہ کب آئے گا اگر تم سچے ہو(تو بتاؤ)۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا اگر تم سچے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{و یقولون متى هذا الوعد: اور وہ کہتے ہیں : یہ وعدہ کب آئے گا۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار مسلمانوں سے مذاق اور محض دل لگی کے طور پر کہتے تھے کہ اگر تم قیامت یا عذاب کی خبر دینے میں سچے ہو تو بتاو ان کا ظہور کب ہو گااللہ تعالی نے ان کا جواب دیتے ہوئے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ارشاد فرمایا کہ اے مخلوق میں سب سے بڑے عالم! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ مشرکین سے فرما دیں کہ اس کا علم تو اللہ تعالی ہی کے پاس ہے میں تو عذاب اورقیامت کے آنے کا تمہیں ڈر سناتا ہوں اور مجھے اتنے ہی کام کا حکم دیاگیا ہے اسی سے میرا فرض ادا ہوجاتا ہے ا س لئے وقت کا بتانا میری ذمہ داری نہیں ۔( مدارک الملک تحت الایۃ: ۲۵-۲۶ ص۱۲۶۵ روح البیان الملک تحت الایۃ: ۲۵-۲۶ ۱۰ / ۹۵-۹۶ ملتقطا) {قل انما العلم عند الله: تم فرماؤ: یہ علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔} یاد رہے کہ اس سے یہ ثابت نہیں ہو تا کہ اللہ تعالی نے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو قیامت کا علم نہیں دیا کیونکہ یہاں یہ نہ فرمایا کہ مجھے علم نہیں دیا گیا بلکہ یہ فرمایا کہ یہ حقیقی و ذاتی علم تو اللہ ہی کے پاس ہےاور ایسے انداز میں بات اس وقت بھی کہی جاتی جب معلومات ہونے کے باوجودبتانا نہ ہو۔حق یہ ہے کہ اللہ تعالی نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکو قیامت کا علم دیا ہے اور اس پر وہ تمام احادیث شاہد ہیں جن میں اپ نے قیامت کی علامات ارشاد فرمائیں حتی کہ سال بتانے کے علاوہ وقت دن اور مہینہ بھی بتا دیا۔