Surah Al Qalam Ayat 1 (68:1)
The Pen · Juz 29 · Makki
نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariنٓ، قلم اور اس کی قسم جو لکھتے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanقلم اور ان کے لکھے کی قسم۔
Tafseer (Urdu)
{ن} یہ حروف مقطعات میں سے ایک حرف ہے اس کی مراد اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے۔ {و القلم و ما یسطرون: قلم اور ان کے لکھے کی قسم۔} ایک قول یہ ہے کہ اس ایت میں قلم سے مراد وہ قلم ہے جس سے لوگ لکھتے ہیں اور ’’ان کے لکھے ‘‘ سے مراد لوگوں کی دینی تحریریں ہیں ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ قلم سے مراد وہ قلم ہے جس سے فرشتے لکھتے ہیں اور’’ ان کے لکھے ‘‘سے بنی آدم کے اعمال کے نگہبان فرشتوں کا لکھا مراد ہے یا ان فرشتوں کا لکھا مراد ہے جو لوح محفوظ سے عالم میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات اپنے صحیفوں میں لکھتے ہیں ۔تیسرا قول یہ ہے کہ اس قلم سے وہ قلم مراد ہے جس سے لوح محفوظ پر لکھاگیایہ نوری قلم ہے اور اس کی لمبائی زمین و آسمان کے فاصلے کے برابر ہےاور’’ ان کے لکھے‘‘ سے لوح محفوظ پر لکھا ہوا مراد ہے۔( مدارکالقلمتحت الایۃ:۱ ص۱۲۶۶ خازن ن تحت الایۃ: ۱ ۴ / ۲۹۳ جمل القلم تحت الایۃ: ۱۸ / ۷۱-۷۲ ملتقطا) اس قلم نے اللہ تعالی کے حکم سے لوح محفوظ پر قیامت تک ہونے والے تمام امور لکھ دیئے ہیں جیسا کہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےرسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالی نے سب سے پہلے قلم کو پیدا فرمایا اورا س سے فرمایا لکھ۔وہ عرض گزار ہوا:اے میرے رب! عزوجل میں کیا لکھوں ارشاد فرمایا: ’’جو کچھ ہو چکا اور جو ابد تک ہو گا سب کی تقدیر لکھ دے۔( ترمذی کتاب القدر ۱۷-باب ۴ / ۶۲ الحدیث: ۲۱۶۲) اور سنن ابو داود کی روایت میں ہے کہ اللہ تعالی نے قلم سے ارشاد فرمایا’’قیامت تک جو چیزیں ہوں گی سب کی تقدیریں لکھ دے۔( ابو داود کتاب السنۃباب القدر ۴ / ۲۹۸ الحدیث: ۴۷۰۰)