Surah Al Haqqah Ayat 1 (69:1)
The Reality · Juz 29 · Makki
اَلْحَآقَّةُ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیقینی طور پر واقع ہونے والی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہ حق ہونے والی۔
Tafseer (Urdu)
{الحآقة: یقینی طور پر واقع ہونے والی۔} اس سے مراد قیامت ہے کیونکہ قیامت کا انا درست اور ثابت ہے اس کے انے میں کوئی شک نہیں بلکہ اس کا واقع ہونا یقینی اورقطعی ہے اور اس میں وہ چیزیں ثابت ہو جائیں گی جن کا دنیا میں انکار کیا جاتا ہے جیسے مرنے کے بعد اٹھایا جانا حساب اور جزاء وغیرہ۔( قرطبی الحاقۃ تحت الایۃ:۱-۲ ۹ / ۱۹۱ الجزء الثامن عشر جلالین مع صاوی الحاقۃ تحت الایۃ: ۱ ۶ / ۲۲۲۴ مدارک الحاقۃ تحت الایۃ: ۱ ص۱۲۷۳ ملتقطا) {ما الحآقة: یقینی طور پر واقع ہونے والی کیا ہے۔} یہ سوال قیامت کی عظمت اور بڑائی بیان کرنے کے طور پر ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ قیامت انتہائی عجیب اور عظیم الشان ہے۔( مدارک الحاقۃ تحت الایۃ: ۲ ص۱۲۷۳ ابو سعود الحاقۃ تحت الایۃ: ۲ ۵ / ۷۶۰ ملتقطا) {و ما ادرىك: اور تمہیں کیا معلوم۔} یعنی تم قیامت کی حقیقت کو نہیں جانتے کیونکہ تم نے ا س کا مشاہدہ نہیں کیا اور نہ ہی اس میں موجود ہولناکیوں کو دیکھا ہے اور اس کی دہشتہولناکی اور شدت ایسی ہے کہ انسان کسی طرح ا س کا اندازہ نہیں لگا سکتا اور نہ ہی کسی کی سوچ اس تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔( خازن الحاقۃ تحت الایۃ: ۳ ۴ / ۳۰۲ مدارک الحاقۃ تحت الایۃ: ۳ ص۱۲۷۳ ملتقطا) علامہ اسماعیل حقی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :یہاں یہ احتمال ہے کہ یہ بات دوسروں کو سنانے کے لئے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کہی گئی ہو۔( روح البیان الحاقۃ تحت الایۃ: ۳ ۱۰ / ۱۳۱)