Surah Al Haqqah Ayat 21 (69:21)
The Reality · Juz 29 · Makki
فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍ 21
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو وہ پسندیدہ زندگی میں ہوگا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو وہ من مانتے چین میں ہے۔
Tafseer (Urdu)
{فهو فی عیشة راضیة: تو وہ پسندیدہ زندگی میں ہوگا۔} یہاں سے ان لوگوں کا ثواب بیان کیا گیا ہے جنہیں اعمال نامے دائیں ہاتھ میں ملیں گےچنانچہ اس ایت اورا س کے بعد والی تین ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ جسے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا تو وہ عذاب سے محفوظ رہنے اور ثواب ملنے کی وجہ سے بلند باغ میں پسندیدہ زندگی میں ہوگا اس کے پھل کھانے والے کے قریب ہوں گے کہ کھڑے بیٹھے لیٹے ہر حال میں جیسے چاہے بآسانی لے سکے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ دنیا میں تم نے جو نیک اعمال آخرت کیلئے کئے ان کے بدلے میں خوشگواری کے ساتھ کھاؤ اور پیو۔( خازن الحاقۃ تحت الایۃ: ۲۱-۲۴ ۴ / ۳۰۵) نیک سیرت چرواہا: حضرت نافع رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :’’ایک مرتبہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کے ساتھ مدینہ منورہ کی ایک وادی میں گیا۔ ہمارے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے ۔انہوں نے اپنا دستر خوان لگایا اور سب کھانا کھانے لگے۔ تھوڑی دیر بعد ہمارے قریب سے ایک چرواہا گزرا حضر ت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نے اس سے فرمایا’’ ایئے !اپ بھی ہمارے ساتھ کھانا تناول فرمائیے ۔چرواہے نے جواب دیا ’’میرا روزہ ہے ۔ اپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس سے فرمایا:’’ تم اس شدید گرمی کے عالم میں سارا دن جنگل میں بکریاں چراتے اوراتنی مشقت کا کام کرتے ہو اور پھر بھی تم نے نفلی روزہ رکھا ہوا ہے کیاتم پر نفلی روزہ رکھنا ضروری ہےیہ سن کر وہ چرواہا کہنے لگا ’’حضور! کیا وہ وقت اگیا جس کے بارے میں قران پاک میں فرمایا گیا کہ ’’كلوا و اشربوا هنیــٴـا بما اسلفتم فی الایام الخالیة‘‘(الحاقہ:۲۴) ترجمہ کنزالعرفان: (کہا جائے گا:)گزرے ہوئے دنوں میں جو تم نے اگے بھیجا اس کے بدلے میں خوشگواری کے ساتھ کھاؤ اور پیو۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما اس چرواہے کی باتیں سن کر بڑے حیران ہوئے او راس سے فرمانے لگے ’’ تم ہمیں ایک بکری فروخت کر دو ہم اسے ذبح کریں گےتمہیں اس کا گوشت بھی کھلائیں گے اور بکری کی مناسب قیمت بھی دیں گے۔ اپ رضی اللہ تعالی عنہ کی یہ بات سن کرو ہ چرواہا عرض گزار ہوا: حضور! یہ بکریاں میری ملکیت میں نہیں بلکہ یہ میرے اقا کی ہیں میں تو غلام ہوں میں انہیں کیسے فروخت کر سکتاہوں اپ رضی اللہ تعالی عنہ اس کی امانت داری سے بہت متاثر ہوئے اور ہم سے فرمایا ’’یہ بھی تو ممکن تھا کہ یہ چرواہا ہمیں بکری بیچ دیتا اور جب اس کا اقا پوچھتا تو جھوٹ بول دیتا کہ بکری کو بھیڑیا کھا گیا لیکن دیکھو یہ کتنا امین اورمتقی چرواہا ہے ۔چرواہے نے بھی یہ بات سن لی اس نے اسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا’’اگر چہ میرا اقا مجھے نہیں دیکھ رہا لیکن میرا پر وردگار عزوجل تو مجھے دیکھ رہا ہے میرا رب عزوجل تو میرے ہر ہر فعل سے باخبر ہے۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما اس چرواہے کی باتوں اور نیک سیرت سے بہت متاثر ہوئے اور اپ رضی اللہ تعالی عنہ اس چرواہے کے مالک کے پاس پہنچے اور اس نیک چرواہے کو خرید کر ازاد کردیا اور ساری بکریاں بھی خرید کر اس چرواہے کو تحفے میں دے دیں ۔( عیون الحکایات الحکایۃ السابعۃ والسبعون ص۹۸-۹۹ ملتقطا)