Surah Al Haqqah Ayat 4 (69:4)
The Reality · Juz 29 · Makki
كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ 4
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariثمود اور عاد نے دلوں کو دہلادینے والی کو جھٹلایا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanثمود اور عاد نے اس سخت صدمہ دینے والی کو جھٹلایا۔
Tafseer (Urdu)
{كذبت ثمود و عاد: ثمود اور عاد نے جھٹلایا۔} اس سے پہلی ایات میں قیامت کی ہولناکی اور شدت کو بیان کیا گیا اور یہاں سے سابقہ امتوں میں سے ان لوگوں کا انجام بیان کیا گیا جنہوں نے قیامت کو جھٹلایا تاکہ کفار مکہ ان سے نصیحت حاصل کریں اور قیامت کو جھٹلانے والوں کا انجام دیکھ کر ڈریں چنانچہ اس ایت اور اس کے بعد والی دو ایات کاخلاصہ یہ ہے کہ حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم ثمود نے اور حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم عاد نے طرح طرح کی دہشتوں اور ہولناکیوں سے دلوں کو دہلادینے والی قیامت کو جھٹلایا تو (دیگر جرائم کے ساتھ ساتھ اس جرم کی وجہ سے بھی) قوم ثمود کے لوگ تو شدت میں حد سے گزری ہوئی چنگھاڑیعنی سخت ہولناک آواز سے ہلاک کر دئیے گئے اور عادکے لوگ انتہائی سخت گرجتی آندھی سے ہلاک کر دئیے گئے اور وہ لوگ اپنی طاقت اور قوت کے باوجود بھی اس اندھی کو روک نہ سکے۔( تفسیر کبیر الحاقۃ تحت الایۃ: ۴-۵ ۱۰ / ۶۲۱ روح البیان الحاقۃ تحت الایۃ: ۴-۶ ۱۰ / ۱۳۱-۱۳۲ مدارک الحاقۃ تحت الایۃ: ۴-۶ ص۱۲۷۳ ملتقطا)