Surah Al Haqqah Ayat 44 (69:44)
The Reality · Juz 29 · Makki
وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ 44
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر وہ ایک بات بھی خود بنا کر ہمارے اوپر لگا دیتے ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر وہ ہم پر ایک بات بھی بنا کر کہتے ۔
Tafseer (Urdu)
{و لو تقول علینا بعض الاقاویل: اور اگر وہ ایک بات بھی خود بنا کر ہمارے اوپر لگا دیتے۔} اس ایت اور اس کے بعد والی تین ایات میں ارشاد فرمایا کہ ساراقران اپنی طرف سے بنا لینا تو دور کی بات ہے اگر بالفرض میرے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ایک بات بھی خود سے بنا کر ہمارے اوپر لگا دیتے جو ہم نے نہ فرمائی ہوتی یا ہم نے وہ بات کہنے کی انہیں اجازت نہ دی ہوتی تو ضرور ہم ان سے قوت اور قدرت کے ساتھ بدلہ لیتے پھر ان کی دل کی رگ کاٹ دیتے جس کے کاٹتے ہی موت واقع ہوجاتی ہے پھر تم میں سے کوئی ہمیں ان سے بدلہ لینے سے روکنے والا نہ ہوتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اے کافرو! سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تمہاری وجہ سے اللہ تعالی کی طرف جھوٹی بات منسوب نہیں کر سکتے حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ جو ایسا کرے گا اللہ تعالی اسے سزا دے گا اور اللہ تعالی کی دی ہوئی سزا دور کرنے پر کوئی بھی قادر نہیں۔(روح البیان الحاقۃتحت الایۃ:۴۴-۴۷۱۰ / ۱۵۰-۱۵۱ جلالین مع صاویالحاقۃتحت الایۃ:۴۴-۴۷۶ / ۲۲۳۲ خازن الحاقۃ تحت الایۃ: ۴۴-۴۷ ۴ / ۳۰۷ ملتقطا) یہ ایات مبارکہ سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے کمال صدق اور بارگاہ خداوندی میں نہایت درجے قابل اعتماد ہونے کی دلیل ہیں ۔ {و انه لتذكرة للمتقین: اور بیشک یہ قرآن ڈر والوں کیلئے ضرور نصیحت ہے۔} یعنی بیشک یہ قران ان لوگوں کے لئے نصیحت ہے جو اللہ تعالی کے فرائض کی بجا اوری کر کے اور اس کی نافرمانیاں چھوڑ کر اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرتے ہیں کیونکہ یہی لوگ اس کی نصیحتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔(تفسیر طبری الحاقۃ تحت الایۃ: ۴۸ ۱۲ / ۲۲۴ صاوی الحاقۃ تحت الایۃ: ۴۸ ۶ / ۲۲۳۳ ملتقطا)