Surah Al Haqqah Ayat 49 (69:49)
The Reality · Juz 29 · Makki
وَ اِنَّا لَنَعْلَمُ اَنَّ مِنْكُمْ مُّكَذِّبِیْنَ 49
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاوربیشک ضرور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے کچھ جھٹلانے والے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ضرور ہم جانتے ہیں کہ تم میں کچھ جھٹلانے والے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و انا لنعلم: اور بیشک ضرور ہم جانتے ہیں ۔} یعنی اے لوگو!ضرور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے کچھ لوگ قران کو جھٹلاتے ہیں تو ہم انہیں ان کے جھٹلانے پر سزا دیں گے۔( روح البیان الحاقۃ تحت الایۃ: ۴۹ ۱۰ / ۱۵۱-۱۵۲) {و انه لحسرة على الكفرین: اور بیشک وہ کافروں پر ضرور حسرت ہے۔} یعنی بیشک وہ قران کافروں پر حسرت کا سبب ہوگا کہ جب وہ قیامت کے دن قرآن پر ایمان لانے والوں کا ثواب اور اس کا انکار کرنے والوں اور جھٹلانے والوں کا عذاب دیکھیں گے تو اپنے ایمان نہ لانے پر افسوس کریں گے اور حسرت و ندامت میں گرفتار ہوں گے۔( خازن الحاقۃ تحت الایۃ: ۵۰ ۴ / ۳۰۷ جلالین الحاقۃ تحت الایۃ: ۵۰ ص۴۷۳ ملتقطا) {و انه لحق الیقین: اور بیشک وہ ضروریقینی حق ہے۔} اس ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ بے شک (قیامت کے دن) کفار کی ندامت یقینی حق ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ بے شک قران کا اللہ تعالی کی طرف سے ہونا یقینی حق ہے ۔ تیسری تفسیر یہ ہے کہ بیشک قران یقینی حق ہے کہ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں ۔( تفسیر سمرقندی الحاقۃ تحت الایۃ: ۵۱ ۳ / ۴۰۱ خازن الحاقۃ تحت الایۃ: ۵۱ ۴ / ۳۰۷ ملتقطا) {فسبح باسم ربك العظیم: تو (اے محبوب!) تم اپنے عظمت والے رب کے نام کی پاکی بیان کرو۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ اپنے عظمت والے رب عزوجل کی ہر طرح کے نقص و عیب سے پاکی بیان کریں اور اس کاشکر ادا کریں کہ اس نے تمہاری طرف اپنے اس جلیل کلام کی وحی فرمائی۔( خازن الحاقۃ تحت الایۃ: ۵۲ ۴ / ۳۰۷)