Surah Al Araf Ayat 100 (7:100)
The Heights · Juz 9 · Makki
اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْۚ-وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ 100
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کیا وہ لوگ جو زمین والوں کے بعد اس کے وارث ہوئے اُنہیں اِس بات نے بھی ہدایت نہ دی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب انہیں پکڑلیں اور ہم ان کے دلوں پر مہرلگادیتے ہیں تووہ کچھ نہیں سنتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کیا وہ جو زمین کے ما لکوں کے بعد اس کے وارث ہوئے انہیں اتنی ہدایت نہ ملی کہ ہم چاہیں تو انہیں ان کے گناہوں پر آفت پہنچائیں اور ہم ان کے دلوں پر مہر کرتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سنتے۔
Tafseer (Urdu)
{ او لم یهد للذین:اور کیا ان لوگوں کو ہدایت نہ ملی۔} اس سے پہلی ایات میں اللہ تعالی نے گزشتہ امتوں کے کفار کا تفصیلی اور اجمالی حال بیان فرمایا اب اس ایت میں ان واقعات کو بیان کرنے کی حکمت کا ذکر ہے کہ یہ واقعات ان موجودہ کافروں کی ہدایت کیلئے بیان کئے گئے ہیں تاکہ ان سے یہ عبرت پکڑیں اور ایمان لائیں۔ (تفسیر کبیر الاعراف تحت الایۃ: ۱۰۰ ۵ / ۳۲۳ ملتقطا) ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین مکہ جو قوم نوح قوم ثمود اور قوم مدین کے بعد ان علاقوں میں اباد ہوئے ہیں اتنے کم فہم اور نادان ہیں کہ یہ لوگ گزشتہ قوموں پر عذاب کے اثار دیکھ کر اتنی عبرت بھی حاصل نہیں کرتے کہ جن کی سرزمین کا انہیں وارث بنایا گیا ان کا نافرمانی کے سبب کتنا برا انجام ہوا کیا ان لوگوں کو اتنی بات بھی سمجھ نہیں اتی کہ جس رب قدیرعزوجل نے پچھلی قوموں کو ان کے کرتوتوں کی سزا دی وہ اج انہیں بھی سزا دینے پر قادر ہے۔ { و نطبع على قلوبهم:اور ہم ان کے دلوں پر مہرلگادیتے ہیں۔} اس کا معنی یہ ہے کہ جس کے سامنے اللہ تعالی نے ہدایت کے راستے واضح فرما دئیے اور گزشتہ امتوں کی مثالیں بھی بیان فرما دیں وہ اس کے بعد بھی اپنے کفر اور سرکشی پر قائم رہے تو اللہ تعالی اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے جس کے سبب وہ کسی حق بات کو قبول کرنے کیلئے سنتا ہی نہیں۔ (البحر المحیط الاعراف تحت الایۃ: ۱۰۰ ۴ / ۳۵۲) اس ایت میں نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ اپ کے ہر طرح سے انہیں نصیحت کرنے کے باوجود بھی اگریہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو اپ غم نہ کریں اپ کی تبلیغ کے موثر ہونے میں کوئی کمی نہیں ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انہیں کفر و ہٹ دھرمی کی سزا دینے کیلئے ہم نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔