Surah Al Araf Ayat 101 (7:101)
The Heights · Juz 9 · Makki
تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآىٕهَاۚ-وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِۚ-فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُؕ-كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ 101
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیہ بستیاں ہیں جن کے احوال ہم تمہیں سناتے ہیں اور بیشک ان کے پاس ان کے رسول روشن دلائل لے کرتشریف لائے تووہ اس قابل نہ ہوئے کہ اس پر ایمان لے آتے جسے پہلے جھٹلا چکے تھے۔ اللہ یونہی کا فروں کے دلوں پرمہر لگادیتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیہ بستیاں ہیں جن کے احوال ہم تمہیں سناتے ہیں اور بیشک ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لے کر آئے تو وہ اس قابل نہ ہوئے کہ وہ اس پر ایمان لاتے جسے پہلے جھٹلاچکے تھے اللہ یونہی چھاپ لگادیتا ہے کافروں کے دلوں پر۔
Tafseer (Urdu)
{ تلك القرى:یہ بستیاں ہیں۔} اس ایت میں خطاب حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ہے اور بستیوں سے وہ پانچ بستیاں مراد ہیں کہ جن کے احوال کا ذکر ما قبل ایات میں گزرا یعنی قوم نوحقوم ہودقوم صالح قوم لوط اور قوم شعیب کی بستیاں۔ (البحر المحیط الاعراف تحت الایۃ: ۱۰۱ ۴ / ۳۵۳ تفسیر کبیر الاعراف تحت الایۃ: ۱۰۱ ۵ / ۳۲۴ ملتقطا) اللہ تعالی اپنے محبوب کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہم تمہیں ان بستیوں اور ان میں رہنے والوں کے بارے میں بتاتے ہیں ان کے حالات اور ان کے اپنے رسولوں کے ساتھ کئے گئے معاملات کی خبر دیتے ہیں تاکہ اے حبیب!صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ جان لو کہ ہم رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کی ان کے دشمن کفار کے مقابلے میں کیسی مدد فرماتے ہیں اور کفار کو ان کے کفرو عناد اور سرکشی کی سزا میں کس طرح ہلاک کرتے ہیں لہذا مشرکین مکہ کو چاہئے کہ پچھلی قوموں کے حالات سے عبرت و نصیحت حاصل کریں اور اپنی سرکشی سے باز اجائیں ورنہ ان کا انجام بھی انہی جیساہو گا۔ (خازن الاعراف تحت الایۃ: ۱۰۱ ۲ / ۱۲۳) { فما كانوا لیؤمنوا بما كذبوا من قبل:تووہ اس قابل نہ ہوئے کہ اس پر ایمان لے اتے جسے پہلے جھٹلا چکے تھے۔} اس ایت کی تفسیر میں مفسرین نے متعدد اقوال نقل کئے ہیں۔ (1)… حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمافرماتے ہیں :اس کا معنی یہ ہے کہ عالم ارواح میں میثاق کے دن وہ لوگ جس چیز کو دل سے جھٹلا چکے تھے کہ صرف زبان سے ’’ بلی‘‘ کہہ کر اقرار کر لیا اوردل سے انکار کیا تھا اسے نبی سے سن کر بھی نہ مانے بلکہ اسی انکار پر قائم رہے۔ (تفسیر کبیر الاعراف تحت الایۃ: ۱۰۱ ۵ / ۳۲۴) (2)…امام مجاہد رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر ہم ان لوگوں کوہلاک کرنے اور عذاب کا معاینہ کروانے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے دنیا میں بھیج دیتے تب بھی وہ اس چیز کو نہ مانتے جسے وہ پہلی زندگی میں جھٹلا چکے تھے۔( خازن الاعراف تحت الایۃ: ۱۰۱ ۲ / ۱۲۳) (3)… نبیوں کے معجزات دیکھنے سے پہلے جس چیز کو جھٹلا چکے تھے اسے معجزات دیکھ کر بھی نہ مانے۔ (تفسیر قرطبی الاعراف تحت الایۃ: ۱۰۱ ۴ / ۱۸۴ الجزء السابع) (4)… انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی تشریف اوری پر پہلے دن جس کا انکار کر چکے تھے اخر تک اسے نہ مانے جھٹلاتے ہی رہے۔ (مدارک الاعراف تحت الایۃ: ۱۰۱ ص۳۷۷) { كذلك یطبع الله على قلوب الكفرین:اللہ یونہی کا فروں کے دلوں پرمہر لگادیتا ہے۔}ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جس طرح اللہ تعالی نے سابقہ امتوں کے کفار کے دلوں پر مہر لگا دی اور انہیں ہلاک کر دیا اسی طرح اپ کی قوم کے ان کافروں کے دلوں پر اللہ تعالی مہر لگا دیتاہے جن کے بارے میں اللہ تعالی لکھ چکا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (خازن الاعراف تحت الایۃ: ۱۰۱ ۲ / ۱۲۳)