Surah Al Araf Ayat 102 (7:102)
The Heights · Juz 9 · Makki
وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍۚ-وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ 102
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہم نے ان کے اکثر لوگوں کوعہد پورا کرنے والا نہ پایا اوربیشک ہم نے ان میں اکثر کو نافرمان ہی پایا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ان میں اکثر کو ہم نے قول کا سچا نہ پایا اور ضرور ان میں اکثر کو بے حکم ہی پایا۔
Tafseer (Urdu)
{ و ما وجدنا لاكثرهم من عهد:اور ہم نے ان کے اکثرلوگوں کوعہد پورا کرنے والا نہ پایا۔} اس عہد سے مراد وہ وعدہ اور عہد و پیمان ہے جو اللہ تعالی نے میثاق کے دن ان سے لیا تھا یا مراد یہ ہے کہ جب کبھی کوئی مصیبت آتی تو عہد کرتے کہ یارب! عزوجل اگر تو ہمیں اس سے نجات دے تو ہم ضرور ایمان لائیں گے پھر جب نجات پاتے تو اس عہد سے پھر جاتے اور ایمان نہ لاتے۔(بغوی الاعراف تحت الایۃ: ۱۰۲ ۲ / ۱۵۴ مدارک الاعراف تحت الایۃ: ۱۰۲ ص۳۷۷ ملتقطا) مصیبت کے وقت عہد و پیمان اور بعد میں اس کے بر خلاف: ایت میں عہد کی جو دوسری تفسیر بیان کی گئی ہے اس کو پیش نظر رکھ کر اپنے احوال پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اندر بھی عملی اعتبار سے ایسی کمزوریاں پائی جاتی ہیں کہ کوئی بیمار پڑتا ہے یا مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو اللہ تعالی سے عہد و پیمان کرتا ہے کہ اے اللہ! عزوجل ایک مرتبہ مجھے اس مصیبت سے چھٹکارا دیدے دوبارہ ساری زندگی تیری فرمانبرداری میں گزاروں گا مگر جیسے ہی وہ مصیبت دور ہوتی ہے تو یہ سب عہد و پیمان پس پشت ڈال دئیے جاتے ہیں اور وہی پرانی موج مستی اور غفلت و معصیت کی زندگی لوٹ اتی ہے۔ یہاں تک حضرت نوح حضرت ہود حضرت صالح حضرت لوط اور حضرت شعیب علیہم الصلوۃ والسلام اور ان کی امتوں کے واقعات بیان فرمائے گئے اب اس کے بعد والی ایتوں سے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا تذکرہ شروع ہوتا ہے۔