Surah Al Araf Ayat 123 (7:123)
The Heights · Juz 9 · Makki
قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْۚ-اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَاۚ-فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ 123
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attari: فرعون نے کہا: تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں ۔ یہ تو بہت بڑا دھوکہ ہے جو تم نے اس شہر میں کیا ہے تاکہ تم شہر کے لوگوں کو اس سے نکال دو تو اب تم جان جاؤ گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanفرعون بولا تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں یہ تو بڑا جعل ہے جو تم سب نے شہر میں پھیلایا ہے کہ شہر والوں کو اس سے نکال دو تو اب جان جاؤ گے۔
Tafseer (Urdu)
{ قال فرعون:فرعون بولا۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی 3ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب جادو گر حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لے ائے تو یہ دیکھ کر فرعون بولا: میری اجازت کے بغیر تم ایمان کیوں لے ائے یہ تو بہت بڑا دھوکہ ہے جو تم اور حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سب نے متفق ہو کر اس شہر میں کیا ہے ۔تم سب شاگرد ہو اور حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام تمہارے استاد ہیں تم نے خفیہ ساز باز کر کے یہ مقابلہ کیا اور تم جان بوجھ کر ہار گئے تاکہ تم شہر کے لوگوں کو اس سے نکال دو اور خود اس پر مسلط ہوجاو تو اب تم جان جاؤ گے کہ میں تمہارے ساتھ کس طرح پیش آتا ہوں اور میں تمہیں کیا سزا دوں گا۔ میں ضرور تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دوں گا پھر تم سب کو دریائے نیل کے کنارے پھانسی دے دوں گا۔ فرعون کی اس گفتگو پر جادو گروں نے یہ جواب دیا: بیشک ہم اپنے رب عزوجل کی طرف پلٹنے والے ہیں تو ہمیں موت کا کیا غم کیونکہ مرنے کے بعد ہمیں اپنے رب عزوجل کی لقاء اور اس کی رحمت نصیب ہوگی اور جب سب کو اسی کی طرف رجوع کرنا ہے تو وہ خود ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔ اس کے بعد ان جادو گروں نے صبر کی دعا کی کہ’’ ربنا افرغ علینا صبرا و توفنا مسلمین ‘‘ اے ہمارے رب عزوجل! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں حالت اسلام میں موت عطا فرما۔ { ثم لاصلبنكم اجمعین:پھر تم سب کو سو لی دوں گا۔} حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمانے فرمایا کہ دنیامیں پہلا سولی دینے والا اور پہلا ہاتھ پاوں کاٹنے والا فرعون ہے۔ (تفسیر قرطبی الاعراف تحت الایۃ: ۱۲۳ ۴ / ۱۸۷ الجزء السابع) { قالوا:(جادوگر) کہنے لگے ۔} اس سے معلوم ہوا کہ مومن کے دل میں جذبہ ایمانی کے غلبے کے وقت غیراللہ کا خوف نہیں ہوتا۔ حق قبول کرنے کے بعد ان جادو گروں کا حال یہ ہوا کہ فرعون کی ایسی ہوش ربا سزا سن کر بھی ان کے قدم ڈگمگائے نہیں بلکہ انہوں نے مجمع عام میں فرعون کے منہ پر اس کی دھمکی کا بڑی جرات کے ساتھ جواب دیا اور اپنے ایمان کو کسی تقیہ کے غلاف میں نہ لپیٹا۔ { و توفنا مسلمین:اور ہمیں حالت اسلام میں موت عطا فرما۔} حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا یہ لوگ دن کے اول وقت میں جادوگر تھے اور اسی روز آخر وقت میں شہید۔ (خازن الاعراف تحت الایۃ: ۱۲۶ ۲ / ۱۲۸) معلوم ہوا کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت نے پرانے کافروں کو ایک دن میں ایمان صحابیت شہادت تمام مدارج طے کر ا دئیے صحبت کا فیض سب سے زیادہ ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ فرعون انہیں شہید نہ کرسکا تھا۔ (تفسیر کبیر الاعراف تحت الایۃ: ۱۲۴ ۵ / ۳۳۹)