Surah Al Araf Ayat 130 (7:130)
The Heights · Juz 9 · Makki
وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ 130
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک ہم نے فرعونیوں کو کئی سال کے قحط اور پھلوں کی کمی میں گرفتار کردیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک ہم نے فرعون والوں کو برسوں کے قحط اور پھلوں کے گھٹانے سے پکڑا کہ کہیں وہ نصیحت مانیں۔
Tafseer (Urdu)
{ و لقد اخذنا ال فرعون :اور بیشک ہم نے فرعون والوں کو پکڑا۔} اس ایت سے اللہ تعالی کی روشن نشانیوں کو جھٹلانے کے سبب فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کے ابتدائی واقعات کو بیان فرمایا گیا ہے۔ سب سے پہلے اللہ عزوجل نے فرعونیوں کو کئی سال کے قحط پھلوں کی کمی اور فقر وفاقہ کی مصیبت میں گرفتار کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں ’’دیہات میں رہنے والے فرعونی قحط کی مصیبت میں گرفتار ہوئے اور شہروں میں رہنے والے (افات کی وجہ سے) پھلوں کی کمی کی مصیبت میں مبتلا ہوئے۔ حضرت کعب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’ان لوگوں پر ایک وقت ایسا ایا کہ کھجور کے درخت پر صرف ایک ہی کھجور اگتی تھی۔ (صاوی الاعراف تحت الایۃ: ۱۳۰ ۲ / ۷۰۱ خازن الاعراف تحت الایۃ: ۱۳۰ ۲ / ۱۲۹ ابو سعود الاعراف تحت الایۃ: ۱۳۰ ۲ / ۲۸۸ ملتقطا) اللہ تعالی نے ان پر یہ سختیاں اس لئے نازل فرمائیں تاکہ ان سے عبرت حاصل کرتے ہوئے وہ سرکشی اور عناد کا راستہ چھوڑ کر اللہ تعالی کی بندگی کی طرف لوٹ ائیں کیونکہ سختی و مصیبت دل کو نرم کر دیتی ہے اور اللہ تعالی کے پاس جو بھلائی ہے اس کی طرف راغب کر دیتی ہے۔ کہتے ہیں کہ’’ فرعون نے اپنی چار سو برس کی عمر میں سے تین سو بیس سال تو اس آرام کے ساتھ گزارے تھے کہ اس مدت میں وہ کبھی درد بخار یا بھوک میں مبتلا ہی نہیں ہوا۔ اگر اس کے ساتھ ایسا ہوتا تو وہ کبھی ربوبیت کا دعوی نہ کرتا۔ (تفسیر کبیر الاعراف تحت الایۃ: ۱۳۰ ۵ / ۳۴۴ مدارک الاعراف تحت الایۃ: ۱۳۰ ص۳۸۱ ملتقطا) مصائب خواب غفلت سے بیداری کا سبب بھی ہیں: یاد رہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے بھیجی ہوئی افتوں اور مصیبتوں میں بھی بہت ساری حکمتیں ہوتی ہیں اور ایک حکمت یہ بھی ہے کہ ان کی وجہ سے انسان غفلت سے بیدار ہو اور اللہ تعالی کا اطاعت گزار اور فرماں بردار بندہ بن جائے لہذا زلزلہ طوفان سیلاب یا کسی اور مصیبت کا سامنا ہو تو اس سے عبرت حاصل کرتے ہوئے غفلت کی نیند سے بیدار ہونے کی کوشش کرنی چاہئے۔