Surah Al Araf Ayat 132 (7:132)
The Heights · Juz 9 · Makki
وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَاۙ-فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ 132
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور (فرعونیوں نے) کہا: (اے موسیٰ! )تم ہمارے اوپر جادو کرنے کے لئے ہمارے پاس کیسی بھی نشانی لے آؤ ،ہم ہرگز تم پر ایمان لانے والے نہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بولے تم کیسی بھی نشانی لے کر ہمارے پاس آؤ کہ ہم پر اس سے جادو کرو ہم کسی طرح تم پر ایمان لانے والے نہیں۔
Tafseer (Urdu)
{ و قالوا:اور بولے۔} اس سے پہلی ایت میں اللہ تعالی نے فرعون اور اس کی قوم کی ایک جہالت اور گمراہی بیان فرمائی کہ انہوں نے قحط خشک سالی اور پھلوں کی کمی کوحضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کے ساتھ والوں کی نحوست قرار دیا اور وہ یہ نہ جان سکے کہ بارش کا نہ ہونا نیز غلہ اور پھلوں کا کم یا زیادہ ہونا یہ سب اللہ عزوجل کی قدرت سے ہے اور ان سب چیزوں کا خالق اللہ تعالی ہے کسی مخلوق کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ اب اس ایت میں ان کی ایک اور جہالت بیان فرمائی کہ یہ لوگ معجزہ اور سحر میں فرق نہیں کرتے اور حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا عصا جو اژدہا بن گیا تھا اسے سحر کہتے تھے حالانکہ ان کے تما م بڑے بڑے جادوگر حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے معجزے کے سامنے عاجز ہو چکے تھے۔ (تفسیر کبیر الاعراف تحت الایۃ: ۱۳۲ ۵ / ۳۴۵) جب فرعون اور اس کی قوم کی سرکشی یہاں تک پہنچ گئی کہ انہوں نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے صاف صاف کہہ دیا ’’ اے موسی! تم ہمارے اوپر جادو کرنے کیلئے کیسی بھی نشانی ہمارے پاس لے او ہم ہرگز تم پر ایمان نہیں لائیں گے تو حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کے خلاف دعا کی آپ علیہ الصلوۃ والسلام چونکہ مستجاب الدعوات تھے اس لئے اپ کی دعا قبول ہوئی۔ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی دعائے ضرر کے بعد فرعون اور اس کی قوم پر جو عذاب ائے ان کا ذکر اگلی ایت میں ہے۔