Surah Al Araf Ayat 133 (7:133)
The Heights · Juz 9 · Makki
فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِ عَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ- فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ 133
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈی اورپِسُو(یا جوئیں ) اور مینڈک اور خون کی جدا جدا نشانیاں بھیجیں تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم قوم تھی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو بھیجا ہم نے ان پر طوفان اور ٹیٹری اور گھن (یا کلنی یا جوئیں ) اور مینڈک اور خون جدا جدا نشانیاں تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم قوم تھی۔
Tafseer (Urdu)
{فارسلنا:تو ہم نے بھیجا ۔} جب جادوگروں کے ایمان لانے کے بعد بھی فرعونی اپنے کفر وسرکشی پر جمے رہے تو ان پر اللہ عزوجل کی نشانیاں پے درپے وارد ہونے لگیں کیونکہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے دعا کی تھی کہ یارب! عزوجل فرعون زمین میں بہت سرکش ہوگیا ہے اور اس کی قوم نے بھی عہد شکنی کی ہے انہیں ایسے عذاب میں گرفتار کر جو ان کے لئے سزا ہو اور میری قوم اور بعد والوں کے لئے عبرت و نصیحت ہو تواللہ تعالی نے طوفان بھیجا ہوا یوں کہ بادل آیا اندھیرا ہوا اور کثرت سے بارش ہونے لگی ۔قبطیوں کے گھروں میں پانی بھر گیا یہاں تک کہ وہ اس میں کھڑے رہ گئے اور پانی ان کی گردنوں کی ہنسلیوں تک آگیا ان میں سے جوبیٹھا وہ ڈوب گیا یہ لوگ نہ ہل سکتے تھے نہ کچھ کام کرسکتے تھے۔ ہفتہ کے دن سے لے کر دوسرے ہفتہ تک سات روز اسی مصیبت میں مبتلا رہے اور باوجود اس کے کہ بنی اسرائیل کے گھر ان کے گھروں سے متصل تھے ان کے گھروں میں پانی نہ آیا۔ جب یہ لوگ عاجز ہوئے تو حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے عرض کی: ہمارے لئے دعا فرمائیے کہ یہ مصیبت دور ہو جائے تو ہم آپ پر ایمان لے ائیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ بھیج دیں گے۔ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے دعا فرمائی تو طوفان کی مصیبت دور ہو گئی زمین میں وہ سرسبزی وشادابی آئی جو پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ کھیتیاں خوب ہوئیں اور درخت خوب پھلے ۔ یہ دیکھ کر فرعونی کہنے لگے ’’یہ پانی تو نعمت تھا اور ایمان نہ لائے۔ ایک مہینہ تو عافیت سے گزرا پھر اللہ تعالی نے ٹڈی بھیجی وہ کھیتیاں اور پھل درختوں کے پتے مکان کے دروازے چھتیں تختے سامان حتی کہ لوہے کی کیلیں تک کھا گئیں اور قبطیوں کے گھروں میں بھر گئیں لیکن بنی اسرائیل کے یہاں نہ گئیں۔ اب قبطیوں نے پریشان ہو کر پھر حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے دعا کی درخواست کی اور ایمان لانے کا وعدہ کیا اس پر عہد و پیمان کیا ۔سات روز یعنی ہفتہ سے ہفتہ تک ٹڈی کی مصیبت میں مبتلا رہےپھر حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا سے نجات پائی۔ کھیتیاں اور پھل جو کچھ باقی رہ گئے تھے انہیں دیکھ کر کہنے لگے ’’یہ ہمیں کافی ہیں ہم اپنا دین نہیں چھوڑتے چنانچہ ایمان نہ لائے عہد وفا نہ کیا اور اپنے اعمال خبیثہ میں مبتلا ہوگئے ۔ ایک مہینہ عافیت سے گزرا پھراللہ تعالی نے قمل بھیجے اس میں مفسرین کا اختلاف ہے’’ بعض کہتے ہیں کہ قمل گھن ہے بعض کہتے ہیں جوں بعض کہتے ہیں ایک اور چھوٹا سا کیڑا ہے۔ اس کیڑے نے جو کھیتیاں اور پھل باقی رہے تھے وہ کھالئے یہ کیڑا کپڑوں میں گھس جاتا تھا اور جلد کو کاٹتا تھا کھانے میں بھر جاتا تھا اگر کوئی دس بوری گندم چکی پر لے جاتا تو تین سیر واپس لاتا باقی سب کیڑے کھا جاتے ۔یہ کیڑے فرعونیوں کے بال بھنویں پلکیں چاٹ گئے ان کے جسم پر چیچک کی طرح بھر جاتے حتی کہ ان کیڑوں نے ان کا سونا دشوار کردیا تھا۔ اس مصیبت سے فرعونی چیخ پڑے اور انہوں نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے عرض کی:ہم توبہ کرتے ہیں آپ اس بلا کے دور ہونے کی دعا فرمائیے۔ چنانچہ سات روز کے بعد یہ مصیبت بھی حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا سے دور ہوئی لیکن فرعونیوں نے پھر عہد شکنی کی اور پہلے سے زیادہ خبیث تر عمل شروع کر دئیے۔ ایک مہینہ امن میں گزرنے کے بعد پھر حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے دعا کی تو اللہ تعالی نے مینڈک بھیجے اور یہ حال ہوا کہ آدمی بیٹھتا تھا تو اس کی مجلس میں مینڈک بھر جاتے بات کرنے کے لئے منہ کھولتا تو مینڈک کود کر منہ میں چلا جاتا ہانڈیوں میں مینڈک کھانوں میں مینڈک چولھوں میں مینڈک بھر جاتے تو آگ بجھ جاتی تھی لیٹتے تھے تو مینڈک اوپر سوار ہوتے تھے اس مصیبت سے فرعونی رو پڑے اور حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے عرض کی: اب کی بار ہم پکی توبہ کرتے ہیں۔ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سے عہد و پیمان لے کر دعا کی تو سات روز کے بعد یہ مصیبت بھی دور ہوئی اور ایک مہینہ عافیت سے گزرا لیکن پھر انہوں نے عہد توڑ دیا اور اپنے کفر کی طرف لوٹے ۔پھر حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے دعا فرمائی تو تمام کنووں کا پانی نہروں اور چشموں کا پانی دریائے نیل کا پانی غرض ہر پانی ان کے لئے تازہ خون بن گیا۔ انہوں نے فرعون سے اس کی شکایت کی تو کہنے لگاکہ ’’ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے جادو سے تمہاری نظر بندی کردی ہے۔ انہوں نے کہا: تم کس نظر بندی کی بات کر رہے ہو ہمارے برتنوں میں خون کے سوا پانی کا نام و نشان ہی نہیں۔ یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ’’ قبطی بنی اسرائیل کے ساتھ ایک ہی برتن سے پانی لیں۔ لیکن ہوا یوں کہ جب بنی اسرائیل نکالتے توپانی نکلتا قبطی نکالتے تو اسی برتن سے خون نکلتا یہاں تک کہ فرعونی عورتیں پیاس سے عاجز ہو کر بنی اسرائیل کی عورتوں کے پاس آئیں اور ان سے پانی مانگا تو وہ پانی ان کے برتن میں آتے ہی خون ہوگیا۔ یہ دیکھ کر فرعونی عورت کہنے لگی کہ’’ تو پانی اپنے منہ میں لے کر میرے منہ میں کلی کردے ۔ مگر جب تک وہ پانی اسرائیلی عورت کے منہ میں رہا پانی تھا جب فرعونی عورت کے منہ میں پہنچا تو خون ہوگیا ۔فرعون خود پیاس سے مضطر ہوا تواس نے تر درختوں کی رطوبت چوسی وہ رطوبت منہ میں پہنچتے ہی خون ہوگئی۔ سات روز تک خون کے سوا کوئی چیز پینے کی میسر نہ آئی تو پھر حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے دعا کی درخواست کی اور ایمان لانے کا وعدہ کیا۔ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے دعا فرمائی یہ مصیبت بھی دور ہوئی مگر وہ ایمان پھر بھی نہ لائے۔( بغوی الاعراف تحت الایۃ: ۱۳۳ ۲ / ۱۵۹-۱۶۱)