Surah Al Araf Ayat 138 (7:138)
The Heights · Juz 9 · Makki
وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْۚ-قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌؕ-قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ 138
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو ان کا گزر ایک ایسی قوم کے پاس سے ہواجو اپنے بتوں کے آگے جم کر بیٹھے ہوئے تھے۔(بنی اسرائیل نے) کہا: اے موسیٰ! ہمارے لئے بھی ایسا ہی ایک معبود بنادو جیسے ان کے لئے کئی معبود ہیں ۔ (موسیٰ نے) فرمایا: تم یقینا جا ہل لوگ ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا پار اتارا تو ان کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا کہ اپنے بتوں کے آگے آسن مارے تھے بولے اے موسیٰ ہمیں ایک خدا بنا دے جیسا ان کے لیے اتنے خدا ہیں بولا تم ضرور جا ہل لوگ ہو۔
Tafseer (Urdu)
{و جوزنا ببنی اسرآءیل البحر:اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا۔} اس ایت سے اللہ تعالی نے بنی اسرائیل سے نعمت کی جو ناشکریاں ہوئیں اور جن برے افعال میں وہ مبتلا ہوئے ان کا اور دیگر واقعات کا بیان شروع فرمایا اورا س سے مقصود نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تسلی دینا اور اپ کی امت کو نصیحت کرنا ہے کہ وہ کسی حال میں بھی اپنے نفس کے محاسبہ سے غافل نہ ہوں اور اپنے احوال میں غورو فکر کرتے رہیں۔ (ابو سعود الاعراف تحت الایۃ: ۱۳۸ ۲ / ۲۹۱) ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ دسویں محرم کے دن فرعون اور اس کی قوم کو غرق کرنے کے بعد اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا تو ان کا گزر ایک ایسی قوم کے پاس سے ہواجو اپنے بتوں کے آگے جم کر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے۔ ابن جریج نے کہا کہ یہ بت گائے کی شکل کے تھے۔ یہاں سے بنی اسرائیل کے دل میں بچھڑا پوجنے کا شوق پیدا ہوا جس کا نتیجہ بعد میں گائے پرستی کی شکل میں نمودار ہوا۔ ان کو دیکھ کر بنی اسرائیل نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے کہا: اے موسی! جس طرح ان کے لئے کئی معبود ہیں جن کی یہ عبادت اور تعظیم کرتے ہیں ہمارے لئے بھی ایسا ہی ایک معبود بنادو تاکہ ہم بھی ا س کی عبادت کریں اور تعظیم بجا لائیں۔ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کے مطالبے کو رد کرتے ہوئے فرمایا: بیشک تم جا ہل لوگ ہوکہ اتنی نشانیاں دیکھ کر بھی نہ سمجھے کہ اللہ عزوجل واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کے سوا کسی کی عبادت جائز نہیں۔ (خازن الاعراف تحت الایۃ: ۱۳۸ ۲ / ۱۳۳ تفسیر کبیر الاعراف تحت الایۃ: ۱۳۸ ۵ / ۳۴۹ ملتقطا) نوٹ: یاد رہے کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ عرض سارے بنی اسرائیل نے نہ کی تھی کیونکہ ان میں حضرت ہارون علیہ الصلوۃ والسلام اور دیگر بزرگ اولیاء اللہ رحمۃاللہ تعالی علیہم بھی تھے بلکہ ان لوگوں نے کی تھی جو ابھی تک راسخ الایمان نہ ہوئے تھے۔ { ان هؤلآء:بیشک یہ لوگ۔} یعنی عنقریب یہ بت پرست اور ان کے بت ہمارے ہاتھوں ہلاک کئے جائیں گے جبکہ تم بت پرست نہیں بلکہ بت شکن ہو۔ اس میں غیب کی خبر ہے اور بعد میں وہی ہوا جو حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا۔