Surah Al Araf Ayat 153 (7:153)
The Heights · Juz 9 · Makki
وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا٘-اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ 153
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور وہ لوگ جنہوں نے برے اعمال کئے پھر ان کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو بیشک اس توبہ وایمان کے بعد تمہارا رب بخشنے والا مہربان ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جنہوں نے برائیاں کیں اور ان کے بعد توبہ کی اور ایمان لائے تو اس کے بعد تمہارا رب بخشنے والا مہربان ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و الذین عملوا السیات:اور وہ لوگ جنہوں نے برے اعمال کئے۔} اس ایت میں گناہ کے بعد توبہ کرنے والوں کیلئے بہت بڑی بشارت اور اللہ تعالی کی رحمت بے پایاں کا ذکر ہے۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص نے گناہ کا کوئی پہلو نہ چھوڑا یعنی کفر تک کا ارتکاب کیا پھر اس نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اپنے تمام گناہوں سے سچی توبہ کر لی اور ایمان لایا اورا س توبہ پر قائم رہا تو اللہ تعالی اس کے سب گناہ بخش دے گا اور اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ (خازن الاعراف تحت الایۃ: ۱۵۳ ۲ / ۱۴۳) اس ایت سے ثابت ہوا کہ گناہ خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ جب بندہ ان سے توبہ کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالی اپنے فضل و رحمت سے ان سب کو معاف فرماتا ہے۔ توبہ کے فضائل: کثیر احادیث میں بھی گناہوں سے سچی توبہ کی قبولیت اور ا س کے فضائل بیان کئے گئے ہیں ترغیب کے لئے ان میں سے دو احادیث درج ذیل ہیں۔ (1)…حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اگر تم اتنے گناہ کرو کہ وہ اسمان تک پہنچ جائیں اور پھر تم اللہ عزوجل کی بارگاہ میں توبہ کرو تو اللہ عزوجل تمہاری توبہ قبول فرما لے گا۔ (ابن ماجہ کتاب الزہد باب ذکر التوبۃ ۴ / ۴۹۰ الحدیث: ۴۲۴۸) (2)…حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالی اپنے بندے کی توبہ پر اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جیسے تم میں سے کسی کا اونٹ جنگل میں گم ہو نے کے بعد دوبارہ اسے مل جائے (بخاری کتاب الدعوات ۴ / ۱۹۱ الحدیث: ۶۳۰۹)۔ ([1]) رحمت الہی کی وسعت : اس ایت میں اللہ تعالی کی رحمت کا ذکر ہوا اس مناسبت سے یہاں اللہ تعالی کی وسیع رحمت کے بیان پر مشتمل ایک حدیث پاک ملاحظہ فرمائیں چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالی کے پاس سو رحمتیں ہیں۔ ان میں سے ایک رحمت اس نے جن و انس حیوانات اور حشرات الارض میں نازل کی جس سے وہ ایک دوسرے پر شفقت اور رحم کرتے ہیں اسی سے وحشی جانور اپنے بچوں پر رحم کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالی نے ننانوے رحمتیں بچا رکھی ہیں ان سے قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔( مسلم کتاب التوبۃ باب فی سعۃ رحمۃ اللہ تعالی وانہا سبقت غضبہ ص۱۴۷۲ الحدیث: ۱۹(۲۷۵۲)) [1] …توبہ کے فضائلشرائط اور اس سے متعلق دیگر چیزوں کی معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب’’توبہ کی روایات و حکایات‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں۔