Surah Al Araf Ayat 167 (7:167)
The Heights · Juz 9 · Makki
وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِؕ-اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ ۚۖ-وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ 167
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب تمہارے رب نے اعلان کردیا کہ وہ ضرور قیامت کے دن تک ان پر ایسوں کو بھیجتا رہے گا جو انہیں برا عذاب دیتے رہیں گے بیشک تمہارا رب ضرور جلد عذاب دینے والا ہے اور بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب تمہارے رب نے حکم سنادیا کہ ضرور قیامت کے دن تک ان پر ایسے کو بھیجتا رہوں گا جو انہیں بری مار چکھائے بیشک تمہارا رب ضرور جلد عذاب والا ہے اور بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و اذ تاذن ربك:اور جب تمہارے رب نے اعلان کردیا ۔} اس سے پہلی ایات میں اللہ تعالی نے یہودیوں کی سرکشی گناہ پر دیدہ دلیری اورا س کی سزا میں مسخ کر کے بندر بنا دینے کا ذکر فرمایا اورا س ایت میں اللہ تعالی نے یہ ذکر فرمایا ہے کہ قیامت تک یہودیوں کے لئے ذلت اور غلامی مقدر کر دی گئی ہے۔ (تفسیر کبیر الاعراف تحت الایۃ: ۱۶۷ ۵ / ۳۹۳) اس ایت کا معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلماپ کے رب عزوجل نے یہودیوں کے اباء واجداد کو ان کے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی زبان سے یہ خبر دی تھی کہ اللہ تعالی قیامت تک یہودیوں پر ایسے افراد مسلط کرتا رہے گا جو انہیں ذلت اور غلامی کا مزہ چکھاتے رہیں گے۔ چنانچہ اللہ تعالی نے یہودیوں پر بخت نصر سنجاریب اور رومی عیسائی بادشاہوں کو مسلط فرمایا جو اپنے اپنے زمانوں میں یہودیوں کو سخت ایذائیں پہنچاتے رہے۔ (خازن الاعراف تحت الایۃ: ۱۶۷ ۲ / ۱۵۲) پھر مسلمان سلاطین ان پر مقرر ہوئے پھر انگریزوں کی غلامی میں رہےقریب کے دور میں جرمنی میں ہٹلر نے انہیں چن چن کر قتل کیا اور اپنے ملک سے نکال دیا۔ یہودیوں کی حرکتیں ہی ایسی ہیں کہ کوئی سلطنت انہیں اپنے ملک میں رکھنے پر امادہ نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں بھی کسی سلطنت نے اجتماعی طور پر انہیں اپنے ملک میں نہ رکھا بلکہ انہیں فلسطین میں اباد کیا اور یہیں سے ان شاء اللہ عزوجل ان کی بڑی تباہی کا اغاز ہوگا۔