Surah Al Araf Ayat 171 (7:171)
The Heights · Juz 9 · Makki
وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْۚ-خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ 171
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یاد کرو جب ہم نے پہاڑ ان کے اوپر بلند کردیا گویا وہ سائبان ہے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ یہ ان پر گرنے ہی والا ہے (اور ہم نے کہا) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے تھام لو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد کرو تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب ہم نے پہاڑ ان پر اٹھایا گویا وہ سائبان ہے اور سمجھے کہ وہ ان پر گر پڑے گا لو جو ہم نے تمہیں دیا زور سے اور یاد کرو جو اس میں ہے کہ کہیں تم پرہیزگار ہو۔
Tafseer (Urdu)
{و اذ نتقنا الجبل فوقهم:اور یاد کرو جب ہم نے پہاڑ ان کے اوپر بلند کردیا۔} جب بنی اسرائیل نے تکالیف شاقہ کی وجہ سے توریت کے احکام قبول کرنے سے انکار کیا تو اللہ تعالی کے حکم سے حضرت جبریل علیہ السلام نے ایک پہاڑ جس کی مقدار ان کے لشکر کے برابر تھی یعنی تین میل لمبا اور تین میل چوڑا پہاڑ اٹھا کر سائبان کی طرح ان کے سروں کے قریب کردیا اور ان سے کہا گیا کہ توریت کے احکام قبول کرو ورنہ یہ تم پر گرا دیا جائے گا۔ پہاڑ کو سروں پر دیکھ کر سب کے سب سجدے میں گر گئے۔مگر اس طرح کہ بایاں رخسارا ورابرو تو انہوں نے سجدے میں رکھ دی ا ور دائیں آنکھ سے پہاڑ کو دیکھتے رہے کہ کہیں گر ہی نہ پڑے چنانچہ اب تک یہودیوں کے سجدے کی یہی شان ہے ۔ (صاوی الاعراف تحت الایۃ: ۱۷۱ ۲ / ۷۲۳) قران کریم کا اہستہ اہستہ نزول اللہ تعالی کی خاص رحمت ہے: اس سے معلوم ہوا کہ قران کا 23 سال کے عرصے میں اہستہ اہستہ اتر نا بھی اللہ عزوجل کی خاص رحمت ہے کہ اس طرح مسلمانوں کو تمام احکامات پر عمل اسان ہو گیا۔ ازاد طبیعت ایک دم سارے احکام کی پابندی میں دقت محسوس کرتی ہے ۔