Surah Al Araf Ayat 178 (7:178)
The Heights · Juz 9 · Makki
مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْۚ-وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ 178
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجسے اللہ ہدایت دے تو وہی ہدایت یافتہ ہوتا ہے اور جنہیں اللہ گمراہ کردے تو وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجسے اللہ راہ دکھائے تو وہی راہ پر ہے اور جسے گمراہ کرے تو وہی نقصان میں رہے۔
Tafseer (Urdu)
{من یهد الله:جسے اللہ ہدایت دے ۔} اس ایت کا معنی یہ ہے کہ ہدایت اور گمراہی دونوں کو پیدا کرنا اللہ تعالی کی طرف سے ہے جبکہ ان میں سے کسی کو اختیار کرنا بندے کی طرف سے ہے لہذا بندہ اگر ہدایت اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالی اس میں ہدایت پیدا فرما دیتا ہے اور اگر وہ گمراہی اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالی اس میں گمراہی پیدا فرما دیتا ہے۔ (روح البیان الاعراف تحت الایۃ: ۱۷۸ ۳ / ۲۷۹) }و لقد ذرانا لجهنم:اور بیشک ہم نے جہنم کے لیے پیدا کئے۔} اس ایت کا معنی یہ ہے کہ بہت سے جنات اور انسانوں کا انجام جہنم میں داخلہ ہوگا۔ جنوں اور انسانوں کو پیدا کرنے کا اصل مقصد تواللہ عزوجل کی عبادت ہے جیسا کہ اس ایت میں ہے : ’’ و ما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون‘‘ (الذاریات:۵۶) ترجمہ کنزالعرفان:اور میں نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں۔ لیکن ان میں سے بہت کا انجام کار جہنم ہے۔اس ایت کے لفظ ’’ لجہنم‘‘ کی ابتداء میں مذکور لام’’ لام عاقبت‘‘ ہے۔ عربی سے واقف حضرات اسے اسانی سے سمجھ لیں گے۔ {لهم قلوب لا یفقهون بها: ان کے ایسے دل ہیں جن کے ذریعے وہ سمجھتے نہیں۔} اس ایت میں اللہ تعالی نے کفار کے ہولناک انجام کی وجہ بیان فرمائی کہ یہ جہنم کا ایندھن اس لئے بنے کہ ان کے ایسے دل ہیں جن کے ذریعے وہ حق سے اعراض کرکے آیات الہیہ میں تدبر کرنے سے محروم ہوگئے حالانکہ یہی دل کا خاص کام تھا۔ ان کی ایسی انکھیں ہیں کہ جن کے ساتھ وہ حق و ہدایت کا راستہ اللہ تعالی کی روشن نشانیاں اور توحید کے دلائل نہیں دیکھتے۔ ان کے ایسے کان ہیں جن کے ذریعے وہ قران کی ایات اور اس کی نصیحتیں قبول کرنے کیلئے نہیں سنتے اور قلب و حواس رکھنے کے باوجود وہ امور دین میں ان سے نفع نہیں اٹھاتے لہذا یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ (خازن الاعراف تحت الایۃ: ۱۷۹ ۲ / ۱۶۲) کافروں کو جانوروں سے بد تر فرمائے جانے کی وجوہات: کفار کو جانوروں سے بد تر فرمانے کی متعدد وجوہات ہیں : (1)…جانوروں میں اللہ تعالی کی ایات سمجھنے دیکھنے اور سننے کی قوت ہی نہیں لہذا اگر وہ نہ سمجھیں تو معذور ہیں لیکن کفار کے اعضا میں یہ قوت ہے پھر بھی وہ اس سے کام نہیں لیتے لہذا وہ جانوروں سے بد تر ہیں۔ (خازن الاعراف تحت الایۃ: ۱۷۹ ۲ / ۱۶۲) (2)…چوپایہ بھی اپنے نفع کی طرف بڑھتا ہے اور ضرر سے بچتا اور اس سے پیچھے ہٹتا ہے لیکن کافر جہنم کی راہ پر چل کر اپنا ضرر اختیار کرتا ہے تو اس سے بدتر ہوا۔ (مدارک الاعراف تحت الایۃ: ۱۷۹ ص۳۹۶) (3)…جانور اپنے مالک کے کہنے پر چلتے ہیں جبکہ کافر نافرمان ہیں کہ اپنے مالک حقیقی خداوند قدوس کے احکام کی مخالفت کرتے ہیں ا س لئے جانوروں سے بد تر ہیں۔ امام عبداللہ بن احمد نسفی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’آدمی روحانی شہوانی سماوی ارضی ہے جب اس کی روح شہوت پر غالب ہوجاتی ہے تو ملائکہ سے فائق ہوجاتا ہے اور جب شہوات روح پر غلبہ پاجاتی ہیں تو زمین کے جانوروں سے بدتر ہوجاتا ہے۔ (مدارک الاعراف تحت الایۃ: ۱۷۹ ص۳۹۶)