Surah Al Araf Ayat 18 (7:18)
The Heights · Juz 8 · Makki
قَالَ اخْرُ جْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًاؕ-لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَــٴَـنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ 18
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاللہ نے فرمایا: تو یہاں سے ذلیل و مردود ہو کرنکل جا۔ بیشک ان میں سے جو تیری پیروی کرے گا تو میں ضرور تم سب سے جہنم بھردوں گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanفرمایا یہاں سے نکل جا رد کیا گیا راندہ ہوا ضرور جو اُن میں سے تیرے کہے پر چلا میں تم سب سے جہنم بھردوں گا۔
Tafseer (Urdu)
{ قال اخر ج منها:(اللہ نے) فرمایا: تو یہاں سے نکل جا۔} فرمایا کہ تو یہاں سے ذلیل و مردود ہو کرنکل جا اج فرشتوں میں ذلیل اور ائندہ ہر جگہ ذلیل و خوار ہو کہ لعنت کی مار تجھ پر پڑتی رہے۔ معلوم ہوا کہ پیغمبر کی دشمنی تمام کفروں سے بڑھ کر ہے شیطان عالم وزاہد ہونے کے باوجود نبی کی تعظیم سے انکار پر ایسا ذلیل ہوا۔ { لاملــٴـن جهنم منكم اجمعین: میں ضرور تم سب سے جہنم بھردوں گا۔} یعنی اے شیطان! تجھ کو بھی اور تیری اولاد کو بھی اور تیری اطاعت کرنے والے آدمیوں کو بھی سب کو جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ جہنم کو جنوں اور انسانوں سے بھرا جائے گا: اس سے معلوم ہوا کہ دوزخ میں شیطان جنات اور انسان سب ہی جائیں گے اور اللہ تعالی ان سے جہنم کو بھر دے گا۔ اسی چیز کو بیان کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ و تمت كلمة ربك لاملــٴـن جهنم من الجنة و الناس اجمعین ‘‘ (ہود:۱۱۹) ترجمہ کنزالعرفان: اور تمہارے رب کی بات پوری ہوچکی کہ بیشک میں ضرور جہنم کو جنوں اور انسانوں سے ملا کربھر دوں گا۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ جہنم اور جنت میں مباحثہ ہوا تو جہنم نے کہا: مجھ میں جبار اور متکبر لوگ داخل ہوں گے۔ جنت نے کہا: مجھ میں کمزور اور مسکین لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ تعالی نے جہنم سے فرمایا ’’تم میرا عذاب ہو میں جس کو چاہوں گا تمہارے ذریعے عذاب دوں گا۔ جنت سے فرمایا ’’تم میری رحمت ہو میں تمہارے ذریعے جس پر چاہوں گا رحم کروں گا اور تم میں سے ہر ایک کو پر ہونا ہے۔ (مسلم کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا باب النار یدخلہا الجبارون ۔۔۔ الخ ص۱۵۲۴ الحدیث: ۳۴(۲۸۴۶))