Surah Al Araf Ayat 19 (7:19)
The Heights · Juz 8 · Makki
وَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ 19
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو پھر اُس میں سے جہاں چاہو کھاؤ اور اُس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ حد سے بڑھنے والوں میں سے ہو جاؤگے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اے آدم تو اور تیرا جوڑا جنت میں رہو تو اُس میں سے جہاں چاہو کھاؤ اور اس پیڑ کے پاس نہ جانا کہ حد سے بڑھنے والوں میں ہو گے۔
Tafseer (Urdu)
{ و یادم اسكن انت: اور اے آدم! تم رہو ۔}اس ایت اور بعد والی چند ایات میں جو واقعہ بیان ہوا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ شیطان کو ذلیل و رسوا کر کے جنت سے نکال دینے کے بعد اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے فرمایا کہ اپ اور اپ کی بیوی حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنھا جنت میں رہو اور جنتی پھلوں میں سے جہاں چاہو کھاو لیکن اس درخت کے قریب نہ جانا۔ وہ درخت گندم تھا یا کوئی اور ( جو بھی رب تعالی کے علم میں ہے ۔) شیطان نے حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنھا کو وسوسہ ڈالا چنانچہ ابلیس ملعون نے اللہ تعالی کی جھوٹی قسم کھاتے ہوئے حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام سے کہا: ’’اس درخت میں یہ تاثیر ہے کہ اس کا پھل کھانے والا فرشتہ بن جاتا ہے یا ہمیشہ کی زندگی حاصل کرلیتا ہے اور اس کے ساتھ ممانعت کی کچھ تاویلیں کرکرا کے دونوں کو اس درخت سے کھانے کی طرف لے ایا۔ حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کے دل میں چونکہ اللہ عزوجل کے نام کی عظمت انتہا درجے کی تھی اس لئے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو گمان بھی نہ تھا کہ اللہ عزوجل کی قسم کھا کر کوئی جھوٹ بھی بول سکتا ہے نیز جنت قرب الہی کا مقام تھا اور حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اس مقام قرب میں رہنے کا اشتیاق تھا اور فرشتہ بننے یا دائمی بننے سے یہ مقام حاصل ہوسکتا ہے لہذا اپ نے شیطان کی قسم کا اعتبار کر لیا اور ممانعت کو محض تنزیہی سمجھتے ہوئے یا خاص درخت کی ممانعت سمجھتے ہوئے اسی جنس کے دوسرے درخت سے کھالیا۔ اس کے کھاتے ہی جنتی لباس جسم سے جدا ہوگئے اور پوشیدہ اعضاء ظاہر ہوگئے۔ جب بے ستری ہوئی تو ان بزرگوں نے انجیر کے پتے اپنے جسم شریف پر ڈالنے شروع کر دئیے۔ اللہ تعالی نے ان سے فرمایا: ’’ کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور میں نے تم سے یہ نہ فرمایا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے دونوں نے عرض کی: اے ہمارے رب !عزوجلہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اور اگر تو نے ہماری مغفرت نہ فرمائی اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ضرور ہم نقصان والوں میں سے ہوجائیں گے۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: اے آدم و حوا !تم اپنی ذریت کے ساتھ جو تمہاری پیٹھ میں ہے جنت سے اترجاو تم میں ایک دوسرے کا دشمن ہے اور تمہارے لئے زمین میں ایک وقت تک ٹھہرنا اور دنیاوی زندگی سے نفع اٹھانا ہے۔ { و طفقا یخصفن: اور وہ دونوں چپٹانے لگے۔} حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنھاکے لباس جدا ہوتے ہی دونوں کا پتوں کے ساتھ اپنے بدن کو چھپانا شروع کردینا اس بات کی دلیل ہے کہ پوشیدہ اعضاء کا چھپانا انسانی فطرت میں داخل ہے۔ لہذا جو شخص ننگے ہونے کو فطرت سمجھتا ہے جیسے مغربی ممالک میں ایک طبقے کا رجحان ہے تو وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کی فطرتیں مسخ ہوچکی ہیں۔