Surah Al Araf Ayat 203 (7:203)
The Heights · Juz 9 · Makki
وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَاؕ-قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِـعُ مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْۚ-هٰذَا بَصَآىٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ 203
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attari: اور اے حبیب! جب تم ان کے پاس نشانی نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے خود ہی کیوں نہ بنا لی؟ تم فرما ؤ: میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف میرے رب کی طرف سے وحی بھیجی جاتی ہے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں کھول دینے والے دلائل ہیں اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اے محبوب جب تم ان کے پاس کوئی آیت نہ لاؤ تو کہتے ہیں تم نے دل سے کیوں نہ بنائی۔ تم فرماؤ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف میرے رب سے وحی ہوتی ہے یہ تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں کھولنا ہے اور ہدایت اور رحمت مسلمانوں کے لیے ۔
Tafseer (Urdu)
{و اذا قرئ القران:اور جب قرآن پڑھا جائے۔} اس سے پہلی ایت میں اللہ تعالی نے قران مجید کی عظمت بیان فرمائی تھی کہ قران پاک کی ایات تو تمہارے رب کی طرف سے انکھیں کھول دینے والے دلائل ہیں اور ایمان لانے والے لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے اورا س ایت میں بتایا ہے کہ اس کی عظمت وشان کا تقاضا یہ ہے کہ جب قران پڑھا جائے تو اسے غور سے سنا جائے اور خاموش رہا جائے۔ (تفسیر کبیر الاعراف تحت الایۃ: ۲۰۴ ۵ / ۴۳۹) علامہ عبداللہ بن احمد نسفی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ اس آیت سے ثابت ہوا کہ جس وقت قرآن کریم پڑھا جائے خواہ نماز میں یا خارج نماز اس وقت سننا اور خاموش رہنا واجب ہے۔ (مدارک الاعراف تحت الایۃ: ۲۰۴ ص۴۰۱) امام کے پیچھے قران پڑھنے کی ممانعت: یاد رہے کہ اس ایت مبارکہ کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ایک قول یہ ہے کہ اس ایت میں خطبہ کو بغور سننے اور خاموش رہنے کا حکم ہے۔اور ایک قول یہ ہے کہ اس ایت سے نماز و خطبہ دونوں میں بغور سننے اور خاموش رہنے کا وجوب ثابت ہوتا ہے ۔ جبکہ جمہور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اس طرف ہیں کہ یہ آیت مقتدی کے سننے اور خاموش رہنے کے باب میں ہے۔ (خازن الاعراف تحت الایۃ: ۲۰۴ ۲ / ۱۷۲ مدارک الاعراف تحت الایۃ: ۲۰۴ ص۴۰۱ ملتقطا) خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت سے امام کے پیچھے قران پاک پڑھنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے اور کثیر احادیث میں بھی یہی حکم فرمایا گیا ہے کہ امام کے پیچھے قراء ت نہ کی جائے۔ چنانچہ (1)… حضرت بشیر بن جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے نماز پڑھائی تو آپ نے کچھ لوگوں کو سنا کہ وہ نماز میں امام کے ساتھ قراء ت کررہے ہیں۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا ’’ کیا ابھی تمہارے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ تم اس آیت کے معنی سمجھو۔ (تفسیر ابن جریر الاعراف تحت الایۃ: ۲۰۴ ۶ / ۱۶۱) (2)…حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب تم نماز پڑھنے لگو تو اپنی صفوں کو درست کرلو پھر تم میں سے کوئی ایک امامت کروائے پس جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو۔ ایک روایت میں اتنا زائد ہے کہ اور جب وہ قراء ت کرے تو تم خاموش رہو۔ (مسلم کتاب الصلاۃ باب التشہد فی الصلاۃ ص۲۱۴-۲۱۵ الحدیث: ۶۲-۶۳(۴۰۴)) (3)… حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’امام اسی لئے ہوتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے پس جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ قراء ت کرے تو خاموش رہو۔( ابن ماجہ کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیہا باب اذا قرا الامام فانصتوا ۱ / ۴۶۱ الحدیث: ۸۴۶) (4)… حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’جس نے ایک رکعت بھی بغیر سورہ فاتحہ کے پڑھی اس کی نماز نہ ہوئی مگر یہ کہ امام کے پیچھے ہو۔ (ترمذی ابواب الصلاۃ باب ما جاء فی ترک القراء ۃ خلف الامام۔۔۔ الخ ۱ / ۳۳۸ الحدیث: ۳۱۳) نوٹ:یہاں ایک اور مسئلہ بھی یاد رکھیں کہ بعض لوگ ختم شریف میں مل کر زور سے تلاوت کرتے ہیں یہ بھی ممنوع ہے۔