Surah Al Araf Ayat 205 (7:205)
The Heights · Juz 9 · Makki
وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ 205
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کروگڑگڑاتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے اور بلندی سے کچھ کم آواز میں ،صبح و شام، اور غافلوں میں سے نہ ہونا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کرو زاری اور ڈر سے اور بے آواز نکلے زبان سے صبح اور شام اور غافلوں میں نہ ہونا۔
Tafseer (Urdu)
{و اذكر ربك فی نفسك تضرعا:اور اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کرو گڑگڑاتے ہوئے۔} اس ایت میں خطاب رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ہے اور اس خطاب میں امت مصطفی بھی داخل ہے کہ یہ حکم تمام مکلفین کو عام ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہماسے مروی ہے کہ اس ایت میں ذکر سے مراد نماز میں قراء ت کرنا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ذکر میں تلاوت قران دعا اور تسبیح و تہلیل وغیرہ تمام اذکار شامل ہیں۔ (خازن الاعراف تحت الایۃ: ۲۰۵ ۲ / ۱۷۳ مدارک الاعراف تحت الایۃ: ۲۰۵ ص۴۰۲ ملتقطا) خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کا ذکر دل میں کیا جائے یا درمیانی اواز میں حد سے زیادہ بلند اواز میں چیختے ہوئے نہ کیا جائے نیز اللہ تعالی کا ذکر عاجزی اورخوف کے ساتھ ہو۔ نیز ذکر اللہ صبح و شام کیا جائے۔ بلند اواز سے اور اہستہ اواز سے ذکر کرنا دونوں کے بارے میں احادیث موجود ہیں اگر ذکر کرنے والے کو ریاکاری کا اندیشہ ہو یا نمازیوں اور ارام کرنے والوں کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو تو اہستہ ذکر کیا جائے ورنہ بلند اواز سے کرنے میں حرج نہیں۔ {بالغدو و الاصال:صبح اور شام۔} ان دونوں اوقات میں ذکر کرنا افضل ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ صبح کے وقت انسان نیند سے بیدار ہوتا ہے تو اس وقت ذکر کرنے سے اس کے نامہ اعمال میں سب سے پہلے اللہ عزوجل کا ذکر کرنا لکھا جائے گا اور شام کے وقت انسان سوتا ہے اور نیند ایک طرح کی موت ہے لہذا اس وقت بھی ذکر کرنا مناسب ہے کہ ممکن ہے سوتے میں ہی انتقال ہو جائے اگر ایساہوا تو قیامت کے دن اللہ عزوجل کا ذکر کرتا ہوا اٹھے گا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ طلوع فجرکے بعد طلوع آفتاب تک اور اسی طرح نماز عصر کے بعد غروب تک نفل نماز ممنوع ہے اس لئے ان وقتوں میں ذکر کرنا مستحب ہے تاکہ بندے کے تمام اوقات قربت و طاعت میں مشغول رہیں۔ (صاوی الاعراف تحت الایۃ: ۲۰۵ ۲ / ۷۴۰) نوٹ:ذکر جلی اور خفی سے متعلق مزید معلومات کیلئے کتاب’’جاء الحق‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔