Surah Al Araf Ayat 206 (7:206)
The Heights · Juz 9 · Makki · Sajdah verse
اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یُسَبِّحُوْنَهٗ وَ لَهٗ یَسْجُدُوْنَ۠۩ (206)ٝ 206
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک وہ جو تیرے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک وہ جو تیرے رب کے پاس ہیں اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاکی بولتے اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{ان الذین عند ربك:بیشک وہ جو تیرے رب کے پاس ہیں۔} اس ایت کا معنی یہ ہے کہ جب فرشتے اپنے بے انتہا شرف پاک اور معصوم ہونے شہوت اور غضب سے بری ہونے کینہ اور حسد سے منزہ ہونے کے باوجود ہمیشہ اللہ تعالی کی عبادت کرتے ہیں اور خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ ریز ہوتے ہیں تو انسان جو کہ جسمانی ظلمتوں بشری کثافتوں اور شہوت و غضب کی اماجگاہ ہے وہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اللہ تعالی کی عبادت زیادہ کرے۔(تفسیر کبیر الاعراف تحت الایۃ: ۲۰۶ ۵ / ۴۴۵) سجدہ تلاوت کے چند احکام: یہ آیت آیات سجدہ میں سب سے پہلی ایت ہے اس مناسبت سے ہم یہاں سجدہ تلاوت کے چند احکام بیان کرتے ہیں: (1)…ایت سجدہ پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے پڑھنے میں یہ شرط ہے کہ اتنی اواز سے ہو کہ اگر کوئی عذرنہ ہو تو خود سن سکے سننے والے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ بالقصد سنی ہو بلکہ بلا قصد سننے سے بھی سجدہ واجب ہو جاتا ہے۔ (ہدایہ کتاب الصلاۃ باب سجود التلاوۃ ۱ / ۷۸ در مختار مع رد المحتار کتاب الصلاۃ باب سجود التلاوۃ ۲ / ۶۹۵-۶۹۶) (2)…سجدہ واجب ہونے کے لیے ایک قول کے مطابق پوری ایت پڑھنا ضروری ہے اور ایک قول کے مطابق پوری ایت پڑھنا ضروری نہیں بلکہ وہ لفظ جس میں سجدہ کا مادہ پایا جاتا ہے اور اس کے ساتھ پہلے یا بعد کا کوئی لفظ ملا کر پڑھنا کافی ہے۔ (رد المحتار علی الدرالمختار کتاب الصلاۃ باب سجود التلاوۃ ۲ / ۶۹۴ تحت قول الدر: ای اکثرہا۔۔۔ الخ) (3)…اگر اتنی اواز سے ایت پڑھی کہ سن سکتا تھا مگر شور و غل یا بہرے ہونے کی وجہ سے نہ سنی تو سجدہ واجب ہوگیا اور اگر محض ہونٹ ہلے اواز پیدا نہ ہوئی تو واجب نہ ہوا۔ (عالمگیری کتاب الصلاۃ الباب الثالث عشر فی سجود التلاوۃ ۱ / ۱۳۲ ۱۳۳) (4)…فارسی یا کسی اور زبان میں ایت کا ترجمہ پڑھا تو پڑھنے والے اور سننے والے پر سجدہ واجب ہوگیا۔ سجدہ تلاوت کی فضیلت: سجدہ تلاوت کی فضیلت کے بارے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب ادمی ایت سجدہ پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان ہٹ جاتا ہے اور رو کر کہتا ہے: ہائے میری بربادی ! ابن ادم کو سجدہ کا حکم ہوا تو اس نے سجدہ کیا اس کے لئے جنت ہے اور مجھے سجدہ کا حکم دیا گیا تو میں نے انکار کیا میرے لیے دوزخ ہے۔‘‘( مسلم کتاب الایمان باب بیان اطلاق اسم الکفر علی من ترک الصلاۃ ص۵۶ الحدیث: ۱۳۳ (۸۱)) سجدہ تلاوت کا طریقہ: سجدہ تلاوت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کھڑا ہو کر اللہ اکبر کہتا ہوا سجدہ میں جائے اور کم سے کم تین بار سبحن ربی الاعلی کہے پھر اللہ اکبر کہتاہوا کھڑا ہو جائے پہلے پیچھے دونوں بار اللہ اکبر کہنا سنت ہے اور کھڑے ہو کر سجدہ میں جانا اور سجدہ کے بعد کھڑا ہونا یہ دونوں قیام مستحب۔(عالمگیری کتاب الصلاۃ الباب الثالث عشر فی سجود التلاوۃ ۱ / ۱۳۵ در مختار مع رد المحتار کتاب الصلاۃ باب سجود التلاوۃ ۲ / ۶۹۹-۷۰۰) یاد رہے کہ سجدہ تلاوت کے لیے اللہ اکبر کہتے وقت نہ ہاتھ اٹھانا ہے اور نہ اس میں تشہد ہے نہ سلام۔(تنویر الابصار کتاب الصلاۃ باب سجود التلاوۃ ۲ / ۷۰۰) نوٹ :سجدہ تلاوت کے مزید مسائل جاننے کے لئے بہار شریعت حصہ 4سے’’سجدہ تلاوت کا بیان‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔