Surah Al Araf Ayat 23 (7:23)
The Heights · Juz 8 · Makki
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَاٚ- وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ 23
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariدونوں نے عرض کی: اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اور اگر تو نے ہماری مغفرت نہ فرمائی اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ضرور ہم نقصان والوں میں سے ہوجائیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanدونوں نے عرض کی اے رب ہمارے ہم نے اپنا آپ بُرا کیا تو اگر تُو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور نقصان والوں میں ہوئے۔
Tafseer (Urdu)
{ ظلمنا انفسنا:ہم نے اپنی جانوں پرزیادتی کی} اپنی جانوں پر زیادتی کرنے سے مراد اس ایت میں گناہ کرنا نہیں ہے بلکہ اپنا نقصان کرنا ہے اور وہ اس طرح کہ جنت کی بجائے زمین پر انا پڑا اور وہاں کی ارام کی زندگی کی جگہ یہاں مشقت کی زندگی اختیار کرنا پڑی۔ حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کے عمل میں مسلمانوں کے لئے تربیت: حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی لغزش کے بعد جس طرح دعا فرمائی اس میں مسلمانوں کے لئے یہ تربیت ہے کہ ان سے جب کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو وہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں اپنے گناہ پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے ا س کا اعتراف کریں اور اللہ تعالی سے مغفرت و رحمت کا انتہائی لجاجت کے ساتھ سوال کریں تاکہ اللہ تعالی ان کا گناہ بخش دے اور ان پر اپنا رحم فرمائے۔ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’مومن بندے سے جب کوئی گناہ سرزد ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے حیا کرتا ہے پھر الحمد للہ! وہ یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ اس سے نکلنے کی راہ کیا ہے تووہ جان لیتا ہے کہ اس سے نکلنے کی راہ استغفار اور توبہ کرنا ہے لہذا توبہ کرنے سے کوئی ادمی بھی شرم محسوس نہ کرے کیونکہ اگر توبہ نہ ہو تو اللہ تعالی کے بندوں میں سے کوئی بھی خلاصی اور نجات نہ پا سکے تمہارے جد اعلی(حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام ) سے جب لغزش صادر ہوئی تو توبہ کے ذریعے ہی اللہ تعالی نے انہیں معاف فرمایا۔(در منثور الاعراف تحت الایۃ: ۲۳ ۳ / ۴۳۳)