Surah Al Araf Ayat 26 (7:26)
The Heights · Juz 8 · Makki
یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًاؕ-وَ لِبَاسُ التَّقْوٰىۙ-ذٰلِكَ خَیْرٌؕ-ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ 26
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے آدم کی اولاد! بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک لباس وہ اُتارا جو تمہاری شرم کی چیزیں چھپاتا ہے اور (ایک لباس وہ جو) زیب و زینت ہے اور پرہیزگاری کا لباس سب سے بہتر ہے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے آدم کی اولاد بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک لباس وہ اُتارا کہ تمہاری شرم کی چیزیں چھپائے اور ایک وہ کہ تمہاری آرائش ہو اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بھلا یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں۔
Tafseer (Urdu)
{ یبنی ادم:اے آدم کی اولاد۔} گزشتہ ایات میں حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کے لباس و طعام کا ذکر ہوا اب یہاں سے ان کی اولاد کے لباس و طعام کی اہمیت اور اس کے متعلقہ احکام کا بیان ہے اور چونکہ گزشتہ ایات میں تخلیق ادم کا بیان ہوا تو یہاں سے بار بار اے اولاد ادم ! کے الفاظ سے خطاب کیا جارہا ہے۔ پس جب اللہ تعالی نے حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت حوا رضی اللہ تعالی عنھا کو جنت سے زمین پر اترنے کا حکم دیا اور زمین کو ان کے ٹھہرنے کی جگہ بنایا تو وہ تمام چیزیں بھی ان پر نازل فرمائیں جن کی دین یا دنیا کے اعتبار سے انہیں حاجت تھی۔ ان میں سے ایک چیز لباس بھی ہے جس کی طرف دین اور دنیا دونوں کے اعتبار سے حاجت ہے۔ دین کے اعتبار سے تو یوں کہ لباس سے ستر ڈھانپنے کا کام لیا جاتا ہے کیونکہ ستر عورت نماز میں شرط ہے اور دنیا کے اعتبار سے یوں کہ لباس گرمی اور سردی روکنے کے کام اتا ہے۔ یہ اللہ تعالی کا بہت بڑا احسان ہے جس کا ذکر اس ایت میں فرمایا۔ ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے تین طرح کے لباس اتارے دو جسمانی اور ایک روحانی۔ جسمانی لباس بعض تو ستر عورت کے لئے اور بعض زینت کے لئے ہیں یہ دونوں اچھے ہیں اور روحانی لباس ایمان تقوی حیا اور نیک خصلتیں ہیں۔ یہ تمام لباس اسمان سے اترے ہیں کیونکہ بارش سے روئی اون اور ریشم پیدا ہوتی ہے یہ بارش اسمان سے اتی ہے اور وحی سے تقوی نصیب ہوتا ہے اور وحی بھی اسمان سے اتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ لباس صرف انسانوں کے لئے بنا یا گیا اسی لئے جانور بے لباس ہی ہوتے ہیں۔ ستر عورت چھپانے کے قابل لباس پہننا فرض ہے اور لباس زینت پہننا مستحب ہے۔ لباس اللہ عزوجل کی بہت بڑی نعمت ہے اس لئے اس کے پہننے پر اللہ عزوجل کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ سرکاردو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا لباس: حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم زیادہ تر سوتی لباس پہنتے تھے اون اور روئی کا لباس بھی کبھی کبھی اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے استعمال فرمایا۔ لباس کے بارے میں کسی خاص پوشاک یا امتیازی لباس کی پابندی نہیں فرماتے تھے۔ جبہ قبا پیرہن تہبند حلہ چادر عمامہ ٹوپی موزہ ان سب کو اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے زیب تن فرمایا ہے۔ پائجامہ کو اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے پسند فرمایا اور منی کے بازار میں ایک پائجامہ خریدا بھی تھا لیکن یہ ثابت نہیں کہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے پائجامہ پہنا ہو۔ (سیرت مصطفی شمائل وخصائل ص۵۸۱) سفیدلباس کی فضلیت: حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’سفید کپڑے پہنو کہ وہ زیادہ پاک اور ستھرے ہیں اور انہیں میں اپنے مردے کفناو۔ (ترمذی کتاب الادب باب ما جاء فی لبس البیاض ۴ / ۳۷۰ الحدیث: ۲۸۱۹) عام اور نیالباس پہنتے وقت کی دعائیں : (1)…حضرت معاذ بن انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص کپڑا پہنے اور یہ پڑھے: ’’الحمد للہ الذی کسانی ھذا ورزقـنیہ من غیر حول منی ولا قـوۃ ‘‘(ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں جس نے مجھے یہ (لباس) پہنایا اور میری طاقت و قوت کے بغیر مجھے یہ عطا فرمایا) تو اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ (مستدرک کتاب اللباس الدعاء عند فراغ الطعام ۵ / ۲۷۰ الحدیث: ۷۴۸۶) (2)…حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب نیا کپڑا پہنتے تو اس کا نام لیتے عمامہ یا قمیص یا چادر پھر یہ دعا پڑھتے: ’’اللھم لک الحمد کما کسوتنیہ اسا لک خیرہ وخیر ما صنع لـہ واعوذ بک من شرہ وشر ما صنع لـہ‘‘ (ترجمہ:اے اللہ تیرا شکر ہے جیسے تو نے مجھے یہ (کپڑا) پہنایا ویسے ہی میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس مقصد کے لئے یہ بنایا گیا ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کے شر اور جس مقصد کے لئے یہ بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں)(شرح السنۃ للبغوی کتاب اللباس باب ما یقول اذا لبس ثوبا جدیدا ۶ / ۱۷۲ الحدیث: ۳۰۰۵) لباس کی عمدہ تشریح: امام راغب اصفہانی رحمۃاللہ تعالی علیہ نے لباس کے لغوی معنی بیان کرتے ہوئے بڑی عمدہ تشریح فرمائی ہے چنانچہ لکھتے ہیں کہ ’’ہر وہ چیز جو انسان کی بری اور ناپسندیدہ چیز کو چھپا لے اسے لباس کہتے ہیں شوہر اپنی بیوی اور بیوی اپنے شوہر کو بری چیزوں سے چھپا لیتی ہے وہ ایک دوسرے کی پارسائی کی حفاظت کرتے ہیں اور پارسائی کے خلاف چیزوں سے ایک دوسرے کے لئے رکاوٹ ہوتے ہیں اس لئے انہیں ایک دوسرے کا لباس فرمایا ہے: ’’ هن لباس لكم و انتم لباس لهن ‘‘(البقرہ:۱۸۷) ترجمہ کنزالعرفان:وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔ لباس سے انسان کی زینت ہوتی ہے اسی اعتبار سے فرمایا ہے ’’ لباس التقوى‘‘ (تقوی کا معنی ہے برے عقائد اور برے اعمال کو ترک کر دینا اور پاکیزہ سیرت اپنانا جس طرح کپڑوں کا لباس انسان کو سردی گرمی اور برسات کے موسموں کی شدت سے محفوظ رکھتا ہے اسی طرح تقوی کا لباس انسان کو اخروی عذاب سے بچاتا ہے۔) (مفردات امام راغب کتاب اللام ص۷۳۴-۷۳۵ ملخصا)