Surah Al Araf Ayat 33 (7:33)
The Heights · Juz 8 · Makki
قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ 33
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ، میرے رب نے تو ظاہری باطنی بے حیائیاں اور گناہ اور ناحق زیادتی کو حرام قرار دیا ہے اور اسے کہ تم اللہ کے ساتھ اس چیز کوشریک قرار دو جس کی اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور یہ کہ تم اللہ پر وہ باتیں کہو جس کا تم علم نہیں رکھتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ میرے رب نے تو بے حیائیاں حرام فرمائی ہیں جو ان میں کھلی ہیں اور جو چھپی اور گناہ اور ناحق زیادتی اور یہ کہ اللہ کا شریک کرو جس کی اس نے سند نہ اتاری اور یہ کہ اللہ پر وہ بات کہو جس کا علم نہیں رکھتے ۔
Tafseer (Urdu)
{ قل:تم فرماؤ ۔} اس ایت میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ذریعے ان مشرکین سے خطاب ہے جو برہنہ ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتے تھے اور اللہ تعالی کی حلال کی ہوئی پاک چیزوں کو حرام کرلیتے تھے ان سے فرمایا جاتا ہے کہ اللہ تعالی نے یہ چیزیں حرام نہیں کیں اور ان سے اپنے بندوں کو نہیں روکا جن چیزوں کو اس نے حرام فرما یا وہ یہ ہیں جو اللہ تعالی بیا ن فرماتا ہے (1) بے حیائیاں چاہے ظاہری ہوں یا باطنی قولی ہوں یا فعلی۔ (2) گناہ۔ (3) ناحق زیادتی۔ (4) ہر طرح کا کفر و شرک۔ { الفواحش:بے حیائیاں۔} ہر وہ قول اور فعل جو برا اور فحش ہو اسے فاحشہ کہتے ہیں (خازن الاعراف تحت الایۃ: ۳۳ ۲ / ۸۹) ایت میں ’’ الفواحش ‘‘ سے مراد ہر کبیرہ گناہ ہے جو علانیہ کیا جائے وہ ’’ ما ظہر ‘‘ یعنی ظاہری ہے اور جو خفیہ کیا جائے وہ’’ ما بطن ‘‘ یعنی باطنی ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ’’فواحش ‘‘ سے وہ گناہ مراد ہیں جن میں شرعی سزا لازم نہ ہو اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد زنا ہے جو بدکاری علی الاعلان ہو (جیسے اجرت دے کر پیشہ ور عورتوں سے بدکاری کرناکلبوں اور ہوٹلوں سے کال گرلز سوسائٹی گرلز بک کر کے بدکاری کرنا) یہ ’’ ما ظهر ‘‘ ہے اور جو زنا خفیہ طریقے سے کیا جائے جیسے کسی جوان لڑکی یا عورت سے عشق و محبت کے نتیجے میں یا پیا رکا جھانسا دے کر زنا کرنا یہ ’’ما بطن ‘‘ ہے۔ (تفسیر کبیر الاعراف تحت الایۃ: ۳۳ ۵ / ۲۳۲) ظاہری و باطنی بے حیائیوں کو حرام قرار دئیے جانے کی وجہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ عزوجل سے زیادہ کوئی غیور نہیں اسی لئے اللہ تعالی نے تمام ظاہری اور باطنی فواحش یعنی بے حیائیوں کو حرام کر دیا۔ (مسلم کتاب التوبۃ باب غیرۃ اللہ تعالی وتحریم الفواحش ص۱۴۷۵ الحدیث: ۳۲(۲۷۶۰)) حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: ’’اگر میں کسی کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھ لوں تو تلوار کی دھار سے اس کی جان نکال کے رکھ دوں۔ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے سنی تو ارشاد فرمایا: ’’تم سعد کی غیرت پر تعجب کرتے ہو! حالانکہ اللہ تعالی کی قسم ! میں ان سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالی مجھ سے زیادہ غیور ہے اسی غیرت کی وجہ سے اللہ تعالی نے بے حیائی کے کاموں کو حرام فرما دیا ہے چاہے بے حیائی ظاہر ہو یا پوشیدہ۔ (بخاری کتاب التوحید باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا شخص اغیر من اللہ ۴ / ۵۴۴ الحدیث: ۷۴۱۶) { و الاثم:اور گناہ۔} فواحش کی طرح ’’الاثم ‘‘ کی تفسیر میں بھی چند قول ہیں (1) ہر صغیرہ گناہ ’’ الاثم ‘‘ ہے۔ (2) وہ گناہ کہ جس پر شرعی سزا لازم نہ ہو ’’ الاثم ‘‘ ہے۔ (3) ہر گناہ ’’ الاثم ‘‘ہے چاہے صغیرہ ہو یا کبیرہ۔ (خازن الاعراف تحت الایۃ: ۳۳ ۲ / ۹۰) { و البغی بغیر الحق:اور ناحق زیادتی ۔} ’’البغی ‘‘کا معنی ہے: ظلم تکبر لوگوں پر زیادتی کرنا اورا ن سب چیزوں میں حد سے بڑھ جانا۔ ناحق زیادتی کا معنی ہے ’’کسی شخص کا اس چیز کو طلب کرنا جو اس کا حق نہیں جبکہ اپنے حق کو طلب کرنا اس میں داخل نہیں۔ (خازن الاعراف تحت الایۃ: ۳۳ ۲ / ۹۰)