Surah Al Araf Ayat 34 (7:34)
The Heights · Juz 8 · Makki
وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌۚ-فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ 34
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہر گروہ کے لئے ایک مدت مقرر ہے تو جب ان کی وہ مدت آجائے گی تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہو ں گے اورنہ ہی آگے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہر گروہ کا ایک وعدہ ہے تو جب ان کا وعدہ آئے گا ایک گھڑی نہ پیچھے ہو نہ آگے۔
Tafseer (Urdu)
{ و لكل امة اجل:اور ہر گروہ کے لئے ایک مدت مقرر ہے۔}اس ایت میں مقررہ مدت سے یا تو یہ مراد ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کرنے والی امتوں کیلئے عذاب کا ایک وقت مقرر ہے اور جب وہ وقت ائے گا تو عذاب ضرور ائے گا۔ ایت کا دوسرا معنی یہ ہوسکتا ہے کہ ہر کسی کی موت کا وقت مقرر ہے اور جب وہ وقت ائے گا تو موت کا تلخ گھونٹ پینا پڑے گا۔ موت کے لئے ہر وقت تیار رہیں : چونکہ موت کا وقت کسی کو معلوم نہیں ہے اس لئے ہر وقت موت کیلئے تیار رہنا چاہیے اور ہر وقت گناہوں سے دور اور نیک اعمال میں مصروف رہنا چاہیے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو۔ (1) اپنے بڑھاپے سے پہلے جوانی کو۔ (2) اپنی بیماری سے پہلے صحت کو۔ (3)اپنی محتاجی سے پہلے مالداری کو۔ (4)اپنی مصروفیت سے پہلے فراغت کو۔ (5) اپنی موت سے پہلے زندگی کو۔ (مستدرک کتاب الرقاق نعمتان مغبون فیہما کثیر من الناس۔۔۔ الخ ۵ / ۴۳۵ الحدیث: ۷۹۱۶) حضرت حسن بصری رحمۃاللہ تعالی علیہ اپنے وعظ میں فرماتے ’’جلدی کرو جلدی کرو کیونکہ یہ چند سانس ہیں اگر رک گئے تو تم وہ اعمال نہیں کر سکو گے جو تمہیں اللہ تعالی کے قریب کرتے ہیں۔ اللہ تعالی اس شخص پر رحم فرمائے جو اپنے نفس کی فکر کرتا ہے اور اپنے گناہوں پر روتا ہے(احیاء علوم الدین کتاب ذکر الموت وما بعدہ الباب الثانی فی طول الامل۔۔۔ الخ بیان المبادرۃ الی العمل وحذر افۃ التاخیر ۵ / ۲۰۵)۔([1]) [1] …موت کی تیاری کی رغبت پانے کے لئے کتاب’’موت کا تصور‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا مطالعہ بہت مفید ہے۔