Surah Al Araf Ayat 35 (7:35)
The Heights · Juz 8 · Makki
یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْۙ-فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ 35
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے آدم کی اولاد! اگر تمہارے پاس تم میں سے وہ رسول تشریف لائیں جو تمہارے سامنے میری آیتوں کی تلاوت کریں تو جو پرہیزگاری اختیار کرے گا اور اپنی اصلاح کرلے گا تو ان پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے آدم کی اولاد اگر تمہارے پاس تم میں کے رسول آئیں میری آیتیں پڑھتے تو جو پرہیزگاری کرے اور سنورے تو اس پر نہ کچھ خوف اور نہ کچھ غم۔
Tafseer (Urdu)
{ اما یاتینكم رسل منكم:اگر تمہارے پاس تم میں سے رسول تشریف لائیں۔} یہاں اسی سابقہ تناظر میں اولاد ادم سے خطاب ہے کہ اے اولاد ادم! تمہارے پاس تم میں سے ہی رسول تشریف لائیں گے جو تمہیں اللہ عزوجل کی کتاب پڑھ کر سنائیں گے اسے سن کرجو پرہیزگاری اختیار کرے گا اور ممنوعات سے بچتے ہوئے عبادت و اطاعت کا راستہ اختیار کرے گا تو قیامت کے دن اس پر اللہ عزوجل کے عذا ب کا نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ دنیا میں کچھ چھوڑ دینے کی وجہ سے غمگین ہوگا بلکہ قیامت کے دن حسب مرتبہ اللہ عزوجل کے فضل و کرم سے بہرہ ور ہوں گے ۔ چنانچہ ا س دن کتنے ہی لوگ نور کے منبروں پر ہوں گے جیسا کہ سرکار دوعالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی فرماتا ہے ’’میرے جلال کی وجہ سے اپس میں محبت کرنے والوں کیلئے (قیامت کے دن) نور کے منبر ہوں گے جن پر انبیاءعلیہم الصلوۃ والسلام اور شہداء بھی رشک کریں گے۔ (ترمذی کتاب الزہد باب ما جاء فی الحب فی اللہ ۴ / ۱۷۴ الحدیث: ۲۳۹۷)