Surah Al Araf Ayat 36 (7:36)
The Heights · Juz 8 · Makki
وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ 36
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاورجو ہماری آیتیں جھٹلائیں گے اور ان کے مقابلے میں تکبر کریں گے تو یہ لوگ جہنمی ہیں ، اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان کے مقابل تکبر کیا وہ دوز خی ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا۔
Tafseer (Urdu)
{ و استكبروا عنها:اور ایات کے مقابلے میں تکبر کریں گے۔} ایات کے مقابلے میں تکبر کا معنی ہے انہیں تسلیم نہ کرنا۔ تکبر کی بہت بڑی قباحت: اس سے معلوم ہو اکہ تکبر کی بہت بڑی قباحت یہ ہے کہ ادمی جب تکبر کا شکار ہوتا ہے تو نصیحت قبول کرنا اس کیلئے مشکل ہوجاتا ہے چنانچہ قران پاک میں ایک جگہ منافق کے بارے میں فرمایا گیا: ’’ و اذا قیل له اتق الله اخذته العزة بالاثم فحسبه جهنم-و لبئس المهاد ‘‘(بقرہ:۲۰۶) ترجمہ کنزالعرفان:اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈرو تو اسے ضد مزید گناہ پر ابھارتی ہے توایسے کو جہنم کافی ہے اور وہ ضرور بہت برا ٹھکاناہے۔ اور حدیث مبارک میں ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ حق کی مخالفت اور لوگوں کو حقیر جاننا تکبر ہے (مسلم کتاب الایمان باب تحریم الکبر وبیانہ ص۶۰ الحدیث: ۱۴۷(۹۱))۔[1] [1]…تکبر کی مزید قباحتیں جاننے کے لئے کتاب’’تکبر‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا مطالعہ فرمائیں۔