Surah Al Araf Ayat 40 (7:40)
The Heights · Juz 8 · Makki
اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِؕ-وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ 40
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان کے مقابلے میں تکبر کیا توان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے حتّٰی کہ سوئی کے سوراخ میں اونٹ داخل ہو جائے اور ہم مجرموں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہ جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان کے مقابل تکبر کیا ان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں جب تک سوئی کے ناکے اونٹ نہ داخل ہو اور مجرموں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{ ان الذین كذبوا بایتنا:بیشک وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔} اس سے پہلی ایت میں اللہ تعالی کی ایات کو جھٹلانے والوں اور ان سے تکبر کرنے والوں کی سزا جہنم میں ہمیشہ رہنا بیان ہوئی اوراس ایت میں اس ہمیشگی کی کیفیت کا بیان ہے پہلی یہ کہ ان کیلئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے۔ کفار کے لئے اسمان کے دروازے نہ کھولے جانے کے معنی: اس کا ایک معنی یہ ہے کہ کفار کے اعمال اور ان کی ارواح کے لئے اسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے کیونکہ ان کے اعمال و ارواح دونوں خبیث ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ کفار کی ارواح کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے اور مومنین کی ارواح کے لئے کھولے جاتے ہیں۔ ابن جریج نے کہا کہ آسمان کے دروازے نہ کافروں کے اعمال کے لئے کھولے جائیں گے نہ ارواح کے لئے۔ (خازن الاعراف تحت الایۃ: ۴۰ ۲ / ۹۳) یعنی نہ زندگی میں ان کا عمل آسمان پر جاسکتا ہے نہ موت کے بعد ان کی روح جا سکتی ہے ۔ مرنے کے بعد مومن اور کافر کی روح کو اسمان کی طرف لے جانے اور مومن کی روح کے لئے اسمان کے دروازے کھلنے اور کافر کی روح کے لئے نہ کھلنے کاذکر حدیث پاک میں بھی ہے چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’روح نکلتے وقت میت کے پاس فرشتے اتے ہیں اگر وہ مومن کی روح ہے تو اس سے کہتے ہیں : اے پاک روح! پاک جسم سے نکل ا کیونکہ تونیک ہے اللہ عزوجل کی رحمت سے خوش ہو جا جنت کی خوشبو اور اپنے رب عزوجل کی رضا مندی سے خوش ہو جا فرشتے روح نکلنے تک یہی کہتے رہتے ہیں جب روح نکل اتی ہے تو اسے لے کر اسمان کی طرف چڑھتے ہیں جب اسمان کے قریب پہنچتے ہیں تو اسمان کے فرشتے کہتے ہیں : یہ کون ہے فرشتے جواب دیتے ہیں ’’فلاں شخص کی روح ہے۔ اسمانی فرشتے کہتے ہیں ’’مرحبا مرحبا اے پاک روح ! پاک جسم میں رہنے والی تو خوش ہو کر (اسمانوں میں ) داخل ہو جا اور خوشبو اور اللہ عزوجل کی رضا سے خوش ہو جا ہر اسمان پر اسے یہی کہا جاتا ہے حتی کہ وہ روح عرش تک پہنچ جاتی ہے ۔اگر کسی برے بندے کی روح ہوتی ہے تو کہتے ہیں ’’اے ناپاک جسم کی روح! بری حالت کے ساتھ ا گرم پانی اور پیپ کی اور اس کے ہم شکل دوسرے عذابوں کی بشارت حاصل کر۔وہ روح نکلنے تک یہی کہتے رہتے ہیں پھر اسے لے کر اسمان کی جانب چلتے ہیں تو اس کے لئے اسمان کا دروازہ نہیں کھولا جاتا اسمان کے فرشتے دریافت کرتے ہیں : ’’یہ کون ہے روح لے جانے والے فرشتے کہتے ہیں ’’یہ فلاں شخص کی روح ہے اسمانی فرشتے جواب دیتے ہیں ’’اس خبیث روح کو جو خبیث جسم میں تھی کوئی چیز مبارک نہ ہو اسے ذلیل کر کے نیچے پھینک دو تو وہ اسے اسمان سے نیچے پھینک دیتے ہیں پھر وہ قبر میں لوٹ اتی ہے۔ (ابن ماجہ کتاب الزہد باب ذکر الموت والاستعداد لہ ۴ / ۴۹۷ الحدیث: ۴۲۶۲) کفار کے لئے اسمان کے دروازے نہ کھولے جانے کا دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ خیر و برکت اور رحمت کے نزول سے محروم رہتے ہیں۔ (تفسیرکبیر الاعراف تحت الایۃ: ۴۰ ۵ / ۲۴۰) قران پاک میں ہے: ’’ و لو ان اهل القرى امنوا و اتقوا لفتحنا علیهم بركت من السمآء و الارض و لكن كذبوا فاخذنهم بما كانوا یكسبون‘‘ (اعراف:۹۶) ترجمہ کنزالعرفان: اور اگر بستیو ں والے ایمان لاتے اور تقوی اختیار کرتے تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے مگر انہوں نے تو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کے اعمال کی وجہ سے (عذاب میں ) گرفتار کردیا۔ { و لا یدخلون الجنة : اور وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے۔} اس ایت میں ہمیشگی کی دوسری کیفیت کا بیان ہوا چنانچہ فرمایا گیا کہ کفار تب تک جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک سوئی کے سوراخ میں اونٹ داخل نہ ہو جائے اور یہ بات چونکہ محال ہے تو کفار کا جنت میں داخل ہونا بھی محال ہے کیونکہ محال پر جو موقوف ہو وہ خود محال ہوتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ کفار کا جنت سے محروم رہنا قطعی ہے۔ یاد رہے کہ اس ایت میں مجرمین سے کفار مراد ہیں کیونکہ اوپر ان کی صفت میں اللہ تعالی کی ایات کو جھٹلانے اور ان سے تکبر کرنے کا بیان ہوچکا ہے۔