Surah Al Araf Ayat 55 (7:55)
The Heights · Juz 8 · Makki
اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةًؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ 55
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاپنے رب سے گڑگڑاتے ہوئے اور آہستہ آواز سے دعا کرو ۔ بیشک وہ حد سے بڑھنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاپنے رب سے دعا کرو گڑگڑاتے اور آہستہ بیشک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں۔
Tafseer (Urdu)
{ ادعوا ربكم:اپنے رب سے دعا کرو۔} دعا اللہ تعالی سے خیر طلب کرنے کو کہتے ہیں اور یہ عبادت میں داخل ہے کیونکہ دعا کرنے والا اپنے آپ کو عاجزو محتاج اور اپنے پروردگار کو حقیقی قادر و حاجت روااعتقاد کرتا ہے اسی لئے حدیث شریف میں وارد ہوا ’’ الدعآئ مخ العبادۃ ‘‘ دعا عبادت کا مغز ہے۔ (ترمذی کتاب الدعوات باب ما جاء فی فضل الدعائ ۵ / ۲۴۳ الحدیث: ۳۳۸۲) دعامانگنے کے فضائل: اس ایت میں اللہ تعالی سے دعا مانگنے کا حکم دیاگیا اس مناسبت سے ہم یہاں دعا مانگنے کے 3 فضائل بیان کرتے ہیںچنانچہ (1)…حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ اللہ تعالی کے نزدیک کوئی چیز دعا سے بزرگ تر نہیں۔ (ترمذی کتاب الدعوات باب ما جاء فی فضل الدعاء ۵ / ۲۴۳ الحدیث: ۳۳۸۱) (2)…حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جس شخص کے لئے دعا کا دروازہ کھول دیا گیا تو ا س کے لئے رحمت کا دروازہ کھول دیاگیا۔ اللہ تعالی سے کئے جانے والے سوالوں میں سے پسندیدہ سوال عافیت کا ہے۔ جو مصیبتیں نازل ہو چکیں اور جو نازل نہیں ہوئیں ان سب میں دعا سے نفع ہوتا ہے تو اے اللہ عزوجل کے بندو! دعا کرنے کو(اپنے اوپر) لازم کر لو۔ (ترمذی کتاب الدعوات باب فی دعاء النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۵ / ۳۲۱ الحدیث: ۳۵۵۹) (3)…حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاوں جو تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دے اور تمہارے رزق کووسیع کر دے ’’رات دن اللہ تعالی سے دعا مانگتے رہو کہ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔ (مسند ابو یعلی مسند جابر بن عبد اللہ ۲ / ۲۰۱ الحدیث: ۱۸۰۶) ایک دعا سے حاصل ہونے والے فوائد: ایک دعا سے ادمی کو پانچ فائدے حاصل ہوتے ہیں : (1)…دعا مانگنے والا عبادت گزاروں کے گروہ میں شمار ہوتا ہے کہ دعا فی نفسہ یعنی بذات خود عبادت بلکہ عبادت کا مغز ہے۔ (2)…جو شخص دعا کرتا ہے وہ اپنے عاجز اور محتاج ہونے کا اقرار اور اپنے پروردگار عزوجل کی قدرت اور کرم کا اعتراف کرتا ہے۔ (3)…دعا مانگنے سے شریعت مطہرہ کے حکم کی بجا اوری ہو گی کہ اللہ تعالی نے اس کا حکم دیا اور دعا نہ مانگنے والے پر حدیث میں وعید ائی۔ (4)…سنت کی پیروی ہو گی کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دعا مانگا کرتے اور اوروں کو بھی تاکید فرماتے۔ (5)…دعا سے افات و بلیات دور ہوتی ہیں اور مقصود حاصل ہوتا ہے۔ (فضائل دعا فصل اول ص۵۴-۵۵ ملخصا) نوٹ: دعا کے فضائل ادابقبولیت کے اسباب قبولیت کے اوقات قبولیت کے مقامات قبولیت کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور ممنوع دعاوں وغیرہ کی معلومات حاصل کرنے کے لئے اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ کے والد ماجد حضرت علامہ مولانا نقی علی خان رحمۃاللہ تعالی علیہ کی تصنیف ’’احسن الوعاء لاداب الدعا‘‘(دعا کے فضائل و اداب اور اس سے متعلقہ احکام پر بے مثال تحقیق) ([1]) یا راقم کی کتاب ’’فیضان دعا‘‘ کا مطالعہ کیجئے۔ { انه لا یحب المعتدین:بیشک وہ حد سے بڑھنے والے کوپسند نہیں فرماتا۔} یعنی لوگوں کو دعا وغیرہ جن چیزوں کا حکم دیا گیا ان میں حد سے بڑھنے والوں کو اللہ تعالی پسند نہیں کرتا۔ (روح البیان الاعراف تحت الایۃ: ۵۵ ۳ / ۱۷۸) حضرت ابو نعامہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مغفل نے اپنے بیٹے کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اے اللہ! عزوجل میں تجھ سے جنت کی دائیں طرف سفید محل کا سوال کرتا ہوں۔ تو فرمایا ’’اے بیٹے !اللہ تعالی سے جنت کا سوال کرو اور جہنم سے پناہ مانگو کیونکہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’’ عنقریب میری امت کے کچھ لوگ وضواور دعا میں حد سے بڑھیں گے ۔( ابو داود کتاب الطہارۃ باب الاسراف فی الماء ۱ / ۶۸ الحدیث: ۹۶) دعا میں حد سے بڑھنے کی صورتیں : یاد رہے کہ دعا میں حد سے بڑھنے کی مختلف صورتیں ہیں جیسے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا مرتبہ مانگنا یا اسمان پر چڑھنے کی دعا کرنا اسی طرح جو چیزیں محال یا قریب بہ محال ہیں ان کی دعا کرنا ہمیشہ کے لئے تندرستی اور عافیت مانگنا ایسے کام کے بدلنے کی دعا مانگنا جس پر قلم جاری ہو چکا مثلا لمبا ادمی کہے میرا قد کم ہو جائے یا چھوٹی انکھوں وا لاکہے کہ میری انکھیں بڑی ہو جائیں۔ اسی طرح گناہ کی دعا مانگنا رشتہ داروں سے تعلقات ٹوٹ جانے کی دعا کرنا اللہ تعالی سے حقیر چیز مانگنا لغو اور بے فائدہ دعا مانگنا رنج و مصیبت سے گھبرا کر اپنے مرنے کی دعا کرنا صحیح شرعی غرض کے بغیر کسی کی موت یا بربادی کی دعا مانگنا کسی مسلمان پر اللہ تعالی کا غضب نازل ہونے یا اسے جہنم میں داخل کئے جانے کی دعا مانگنا سب مسلمانوں کے سب گناہ بخشے جانے کی دعا مانگنا اورکافر کی مغفرت کی دعا کرنا وغیرہ۔ [1] …یہ کتاب تسہیل اور تخریج کے ساتھ مکتبۃ المدینہ نے ’’فضائل دعا‘‘ کے نام سے شائع کی ہے وہاں سے خرید کر اس کا مطالعہ فرمائیں۔