Surah Al Araf Ayat 59 (7:59)
The Heights · Juz 8 · Makki
لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ 59
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا: اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو ۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ۔بے شک میں تم پر بڑے دن کے عذاب کا خوف کرتا ہوں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں بیشک مجھے تم پر بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ لقد ارسلنا نوحا:بیشک ہم نے نوح کو بھیجا۔} اس سے ماقبل ایات میں اللہ تعالی نے اپنی قدرت اور وحدانیت کے دلائل اور اپنی عجیب و غریب صنعتوں سے متعلق بیان فرمایا ان سے اللہ تعالی کا واحد اور رب ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ پھر مرنے کے بعد اٹھنے اور زندہ ہونے کی صحت پر مضبوط ترین دلیل قائم فرمائی ان سب کے بعد بڑی تفصیل سے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے واقعات بیان فرمائے کہ وہ بھی اپنی امتوں کوتوحید ورسالت اورعقیدہ قیامت کی طرف دعوت دیتے رہے اس سے یہ معلوم ہوا کہ یہ دعوت کوئی نئی نہیں بلکہ ہمیشہ سے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام انہی چیزوں کی دعوت دیتے ائے ہیں پھر اس کے ساتھ اس بات کو بھی بار بار دہرایا گیا کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی دعوت کے انکار کو معمولی نہ سمجھا جائے بلکہ پہلی امتوں کے احوال کو پیش نظر رکھا جائے کہ ان میں سے جنہوں نے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو جھٹلایا اور ان کے بیان کردہ عقیدہ توحیدورسالت اور حشر و نشر کا انکار کیا وہ تباہ و برباد ہوگئے۔ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے واقعات میں سب سے پہلے حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر کیا گیا کیونکہ کفار کی طرف بھیجے جانے والے پہلے رسول یہی تھے۔ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کا مختصر تعارف: حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کا اسم گرامی یشکر یا عبد الغفار ہے اور اپ علیہ الصلوۃ والسلام حضرت ادریس علیہ الصلوۃ والسلام کے پڑپوتے تھے۔ اپ کا لقب ’’نوح‘‘ اس لئے ہو اکہ اپ کثرت سے گریہ و زاری کیا کرتے تھے چالیس یا پچاس سال کی عمر میں نبوت سے سرفراز فرمائے گئے۔ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی قوم کو عبادت الہی کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: اے میری قوم ! ایمان قبول کر کے اللہ عزوجل کی عبادت کرو کیونکہ اس کے سوا کوئی اور ایسا ہے ہی نہیں کہ جس کی عبادت کی جا سکے وہی تمہارا معبود ہے اور جس چیز کا میں تمہیں حکم دے رہا ہوں اس میں اگر تم میری نصیحت قبول نہ کرو گے اور راہ راست پر نہ آؤ گے تومجھے تم پر بڑے دن یعنی روز قیامت یا روز طوفان کے عذاب کا خوف ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نبوت کی زبردست دلیل: انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے ان تذکروں میں سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نبوت کی زبردست دلیل ہے کیونکہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم امی تھے پھر آپ کا ان واقعات کو تفصیلابیان فرمانا بالخصوص ایسے ملک میں جہاں اہل کتاب کے علماء بکثرت موجود تھے اور سرگرم مخالف بھی تھے ذراسی بات پاتے تو بہت شور مچاتے وہاں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ان واقعات کو بیان فرمانا اور اہل کتاب کا ساکت و حیران رہ جانا اس بات کی صریح دلیل ہے کہ آپ نبی برحق ہیں اور پروردگار عالم عزوجل نے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر علوم کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ نوٹ: حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنی قوم کو راہ راست پر انے کی دعوت دینے اور ان کی قوم پر انے والے عذاب کا تفصیلی ذکر سورہ ہود ایت25تا 48 میں بھی مذکور ہے۔