Surah Al Araf Ayat 58 (7:58)
The Heights · Juz 8 · Makki
وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُ جُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖۚ-وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُ جُ اِلَّا نَكِدًاؕ-كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ 58
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جو اچھی زمین ہوتی ہے اس کا سبزہ تواپنے رب کے حکم سے نکل آتا ہے اور جو خراب ہو اس کا سبزہ بڑی مشکل سے تھوڑا سا نکلتا ہے ۔ہم اسی طرح شکر کرنے والے لوگوں کے لئے تفصیل سے آیات بیان کرتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جو اچھی زمین ہے اس کا سبزہ اللہ کے حکم سے نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس میں نہیں نکلتا مگر تھوڑا بمشکل ہم یونہی طرح طرح سے آیتیں بیان کرتے ہیں ان کے لیے جو احسان مانیں۔
Tafseer (Urdu)
{ و البلد الطیب:اور جو اچھی زمین ہوتی ہے ۔}یہ مومن کی مثال ہے کہ جس طرح عمدہ زمین پانی سے نفع پاتی ہے اور اس میں پھول پھل پیدا ہوتے ہیں اسی طرح جب مومن کے دل پر قرآنی انوار کی بارش ہوتی ہے تو وہ اس سے نفع پاتا ہے ایمان لاتا ہے طاعات و عبادات سے پھلتا پھولتا ہے۔یونہی یہ مثال فیضان نبوت کی بھی ہوسکتی ہے کہ جب نبوی فیضان عام ہوتا ہے اور نور نبوت کی بارش برستی ہے تو مومن کا دل اس سے نفع حاصل کرتاہے اور اسے روحانی زندگی مل جاتی ہے اور اس کے رگ و پے میں نور ایمان سرایت کرجاتا ہے اور اعمال صالحہ کے پھل پھول کھلنے لگتے ہیں۔ { و الذی خبث:اور جو خراب ہو۔}یہ کافر کی مثال ہے کہ جیسے خراب زمین بارش سے نفع نہیں پاتی ایسے ہی کافر قرآن پاک سے منتفع نہیں ہوتا اور یونہی جب فیضان نبوت کی بارش ہوتی ہے تو کافر کا خبیث دل اس فیضان سے اسی طرح محروم رہتا ہے جیسے بہترین بارش سے کانٹے دار اور جھاڑ جھنکار والی زمین محروم رہتی ہے۔