Surah Al Araf Ayat 64 (7:64)
The Heights · Juz 8 · Makki
فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ 64
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو انہوں نے نوح کو جھٹلایا تو ہم نے اسے اور جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے سب کو نجات دی اور ہماری آیتیں جھٹلانے والوں کو غرق کر دیا بیشک وہ اندھے لوگ تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو انہوں نے اسے جھٹلایا تو ہم نے اسے اور جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی اور اپنی آیتیں جھٹلانے والوں کو ڈبو دیا بیشک وہ اندھا گروہ تھا۔
Tafseer (Urdu)
{ فكذبوه:تو انہوں نے نوح کو جھٹلایا۔}جب حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم نے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت کو جھٹلایا حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام پر نازل ہونے والی وحی جو اپ ان تک پہنچادیتے تھے اسے قبول نہ کیا اورایک عرصے تک عذاب الہی سے خوف دلانے اور راہ راست پر لانے کی کوششیں کرنے کے باوجود بھی وہ لوگ اپنی بات پر ڈٹے رہے تو ان پر اللہ تعالی کا عذاب نازل ہوا۔ جو مومنین حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے سا تھ کشتی میں سوار تھے انہیں اللہ تعالی نے عذاب سے محفوظ رکھا اور باقی سب کو غرق کر دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ عزوجل کے دشمنوں پر اس وقت تک دنیاوی عذاب نہیں اتے جب تک وہ پیغمبر کی نافرمانی نہ کریں اللہ تعالی فرماتا ہے: ’’ و ما كنا معذبین حتى نبعث رسولا ‘‘ (بنی اسرائیل:۱۵) ترجمہ کنزالعرفان:اور ہم کسی کو عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کوئی رسول نہ بھیج دیں۔ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی کشتی میں چالیس مرد اور چالیس عورتیں سوار تھیں مگر اپ علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد کے سوا کسی کی نسل نہ چلی اس لئے اپ کو ’’ادم ثانی‘‘ کہتے ہیں۔ ایت میں اللہ تعالی نے مزید فرمایا ’’بیشک وہ (یعنی کفار) اندھے لوگ تھے۔ ‘‘یعنی ان کے پاس نبوت کی شان دیکھنے والی انکھ نہ تھی ان کے دل اندھے تھے اگرچہ انکھیں کھلی تھیں جیساکہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمانے فرمایا کہ ان کے دل اندھے تھے معرفت کا نور ان کی قسمت میں نہ تھا ۔ (خازن الاعراف تحت الایۃ: ۶۴ ۲ / ۱۰۸)