Surah Al Araf Ayat 65 (7:65)
The Heights · Juz 8 · Makki
وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًاؕ-قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-اَفَلَا تَتَّقُوْنَ 65
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور قومِ عاد کی طرف ان کے ہم قوم ہود کو بھیجا۔ ( ہود نے) فرمایا: اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ۔ تو کیا تم ڈرتے نہیں؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور عاد کی طرف ان کی برادری سے ہود کو بھیجا کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تو کیا تمہیں ڈر نہیں۔
Tafseer (Urdu)
{ و الى عاد:اور قوم عاد کی طرف۔}قوم عاد دو ہیں : عاد اولی یہ حضرت ہودعلیہ الصلوۃ والسلام کی قوم ہے اور یہ یمن میں اباد تھے اور عادثانیہیہ حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم ہے اسی کو ثمود کہتے ہیں ان دونوں کے درمیان سو برس کا فاصلہ ہے۔ یہاں عاد اولی مراد ہے۔ (جمل الاعراف تحت الایۃ: ۶۵ ۳ / ۵۸ روح البیان الاعراف تحت الایۃ: ۶۵ ۳ / ۱۸۵) حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کی قوم کا واقعہ: اس ایت اور اگلی چند ایات میں جو واقعہ بیان ہوا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قوم عاد کی ہدایت کے لئے ان کے ہم قوم حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کی طرف بھیجا ۔حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سے فرمایا:’’ اے میری قوم ! تم اللہ تعالی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں کیا تمہیں اللہ عزوجل کے عذاب سے ڈر نہیں لگتا اس پرقوم کے کافر سردار بولے: ہم توتمہیں بیوقوف سمجھتے اور جھوٹا گمان کرتے ہیں اور تمہیں رسالت کے دعوی میں سچا ہی نہیں جانتے ۔کفار کا حضرت ہودعلیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہ میں یہ گستاخانہ کلام کہ’’ تمہیں بے وقوف سمجھتے ہیں ‘ جھوٹا گمان کرتے ہیں ‘‘انتہا درجہ کی بے ادبی اور کمینگی تھی اور وہ اس بات کے مستحق تھے کہ انہیں سخت ترین جواب دیا جاتا مگر حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے اخلاق و ادب اور شان حلم سے جو جواب دیا اس میں شان مقابلہ ہی نہ پیدا ہونے دی اور ان کی جہالت سے چشم پوشی فرمائی چنانچہ فرمایا :اے میری قوم ! بے وقوفی کامیرے ساتھ کوئی تعلق نہیں میں تو رب العالمین کا رسول ہوں۔ میں توتمہیں اپنے رب عزوجل کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور تمہارے لئے قابل اعتماد خیرخواہ ہوں اور کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے پاس تمہارے رب عزوجل کی طرف سے تمہیں میں سے ایک مرد کے ذریعے نصیحت ائی تاکہ وہ تمہیں اللہ عزوجل کے عذاب سے ڈرائے ۔اللہ عزوجل کے یہ احسان یاد کرو کہ اس نے تمہیں قوم نوح کے بعد ان کا جانشین بنایا اور تمہیں عظیم جسمانی قوت سے نوازا کہ قد کاٹھ اور قوت دونوں میں دوسروں سے ممتاز بنایا تواللہ عزوجل کے احسانات یاد کرو اس پر ایمان لاو اور اطاعت و بندگی کا راستہ اختیار کرو۔ حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام چونکہ اپنی قوم کی بستی سے علیحدہ ایک تنہائی کے مقام میں عبادت کیا کرتے تھے جب آپ کے پاس وحی اتی تو قوم کے پاس آکر سنادیتے اس وقت قوم یہ جواب دیتی کہ کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم ایک اللہ عزوجل کی عبادت کریں اور جن بتوں کی عبادت ہمارے باپ دادا کیا کرتے تھے انہیں چھوڑ دیں۔ اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب لے او جس کی تم ہمیں وعیدیں سناتے ہو۔ حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: بیشک تم پر تمہارے رب عزوجل کا عذاب اور غضب لازم ہوگیا۔ قوم عاد پر انے والے عذاب کی کیفیت کا بیان چند ایات کے بعد مذکور ہے اور اس کے علاوہ یہ واقعہ سورہ ہود ایت نمبر50تا 60میں بھی مذکور ہے۔