Surah Al Araf Ayat 92 (7:92)
The Heights · Juz 9 · Makki
الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَاۚۛ-اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ 92
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہ جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا ایسے ہوگئے گویا ان گھروں میں کبھی رہے ہی نہ تھے۔ شعیب کو جھٹلانے والے ہی نقصان اٹھانے والے ہوئے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanشعیب کو جھٹلانے والے گویا ان گھروں میں کبھی رہے ہی نہ تھے شعیب کو جھٹلانے والے وہی تباہی میں پڑے۔
Tafseer (Urdu)
{ الذین كذبوا شعیبا:شعیب کو جھٹلانے والے۔} ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کو جھٹلانے والوں پر جب مسلسل نافرمانی اور سرکشی کی وجہ سے اللہ عزوجل کا عذاب ایا تو وہ ہلاکت و بربادی سے دوچار ہو گئے ان کے شاندار محلات جہاں زندگی اپنی تمام تر رونقوں کے ساتھ جلوہ گر تھی ایسے ویران ہو گئے کہ وہاں ہر سو خاک اڑنے لگی اورہلاکت کے بعد ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا یہاں کبھی کوئی اباد ہی نہیں ہوا۔ (تفسیر طبری الاعراف تحت الایۃ: ۹۲ ۶ / ۶ ملتقطا) { كانوا هم الخسرین: وہی نقصان اٹھانے والے ہوئے۔} حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کے لوگ اس خوف کی وجہ سے اپ پر ایمان نہیں لاتے تھے کہ اگر انہوں نے ان پر ایمان لا کر ان کی شریعت پر عمل شروع کر دیا تو وہ معاشی بد حالی کی دلدل میں پھنس جائیں گے اللہ تعالی نے اس ایت میں تنبیہ فرمائی کہ جس خوف کی وجہ سے وہ قبول ایمان سے دور تھے وہ درست ثابت نہ ہوا بلکہ نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلا کہ جنہوں نے اللہ عزوجل کے نبی پر ایمان لا کر ان کی شریعت کی پیروی کی وہ تو دین و دنیا دونوں میں کامیاب ہو گئے اور جنہوں نے اللہ عزوجل کے نبی حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کو جھٹلایا اوراپ کی نافرمانی کی ان کی دنیا تو برباد ہوئی اس کے ساتھ اخرت بھی برباد ہو گئی۔ لہذاا نقصان تو ان لوگوں نے اٹھایا ہے جو سر کش اور نافرمان تھے نہ کہ انہوں نے جو تابع اور فرماں بردار تھے۔ (مدارک الاعراف تحت الایۃ: ۹۲ ص۳۷۵ ملخصا) اقتصادی اور معاشی بہتری اسلامی احکام پر عمل کرنے میں ہے: اہل مدین کے حالات میں ان لوگوں کے لئے بہت عبرت ہے کہ جو محض نام نہاد اور بے بنیاد اقتصادی زبوں حالی کے خوف سے شریعت اسلامیہ کے واضح احکام میں رد و بدل کرنے کیلئے پیچ و تاب کھاتے نظر اتے ہیں ایسے حضرات کو چاہئے کہ مدین والوں کے حالات کا بغور مطالعہ کریں اور اپنی اس روش کو بدل کر صحیح اسلامی سوچ اپنانے کی کوشش کریں اور معاشی بہتری کے لئے اسلام کے دئیے ہوئے اصول و قوانین پر عمل کریں پھر دیکھیں کہ کیسے یہ اقتصادی اور معاشی طور پر مضبوط ہوتے ہیں۔