Surah Al Araf Ayat 96 (7:96)
The Heights · Juz 9 · Makki
وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰـكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ 96
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر بستیو ں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے مگر انہوں نے تو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کے اعمال کی وجہ سے پکڑلیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور ڈرتے تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے مگر انہوں نے تو جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کے کیے پر گرفتار کیا۔
Tafseer (Urdu)
{ و لو ان اهل القرى امنوا و اتقوا:اور اگر بستیو ں والے ایمان لاتے اورتقوی اختیار کرتے۔} پہلی ایت میں بیان ہوا کہ جب ان قوموں نے نافرمانی اور سرکشی کا راستہ اختیار کیا تو اللہ تعالی نے ان پر اپنا عذاب نازل کیا اور اس ایت میں بتایا جا رہا ہے کہ اگر وہ لوگ اطاعت و فرماں برداری کرتے تو اس صورت میں اسمانی اور زمینی برکتیں انہیں نصیب ہوتیں چنانچہ ارشاد فرمایا کہ’’ اگر بستیو ں والے اللہ عزوجل اس کے فرشتوں اس کی کتابوں اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان لاتے اورخدا اور رسول کی اطاعت اختیار کرتے اور جس چیز سے اللہ عزوجل اور رسول علیہ السلام نے منع فرمایا اس سے باز رہتے تو ضرور ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے اور ہر طرف سے انہیں خیر پہنچتی وقت پر نافع اور مفید بارشیں ہوتیں زمین سے کھیتی پھل بکثرت پیدا ہوتے رزق کی فراخی ہوتی امن و سلامتی رہتی اور آفتوں سے محفوظ رہتے۔ (تفسیر کبیر الاعراف تحت الایۃ: ۹۶ ۵ / ۳۲۱) تقوی رحمت الہی ملنے کاذریعہ ہے: اس سے معلوم ہو ا کہ تقوی دنیا میں بھی اور اخرت میں بھی رحمت الہی کا ذریعہ ہے ۔ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ و من یتق الله یجعل له مخرجا ‘‘ (الطلاق:۲) ترجمہ کنزالعرفان:اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے (دنیا و اخرت کی مصیبتوں سے) نکلنے کا راستہ بنادے گا۔ مصائب کی دوری کے لئے نیک اعمال کرنے جائز ہیں : اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دنیاوی مصائب دور کرنے کے لئے نیک اعمال کرنے جائز ہیں یعنی اللہ تعالی کو راضی کرنے کیلئے عمل کیا جائے تاکہ وہ اپنی رحمت فرماتے ہوئے ہماری حاجت پوری کردے اسی لئے بارش کیلئے نماز استسقاء اور گرہن میں نماز کسوف پڑھتے ہیں۔ یہاں ہم ظاہری اور باطنی مصائب کی دوری کے لئے احادیث میں مذکور چند اعمال ذکر کرتے ہیں تاکہ مسلمان ان پر عمل کر کے اپنے مصائب دور کرنے کی کوشش کریں۔ (1)…ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں :میں نے سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس مسلمان پر کوئی مصیبت ائے اور وہ اللہ تعالی کے حکم کے مطابق ’’ انا لله و انا الیه رجعون ‘‘ پڑھے (اور یہ دعا کرے) ’’اللہم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منہا‘‘ا ے اللہ!میری ا س مصیبت پر مجھے اجر عطا فرما اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما ‘‘تو اللہ تعالی اس کو اس سے بہتر بدل عطا فرمائے گا۔ (مسلم کتاب الجنائز باب ما یقال عند المصیبۃ ص ۴۵۷ الحدیث: ۳ (۹۱۸)) (2)…حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ یہ دل ایسے زنگ آلود ہوتے رہتے ہیں جیسے لوہا پانی لگنے سے زنگ آلود ہوجاتا ہے۔ عرض کی گئی: یا رسول اللہ ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان دلوں کی صیقل کیا ہے ارشاد فرمایا ’’ موت کی زیادہ یاد اور قرآن کریم کی تلاوت۔ (شعب الایمان التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ ۲ / ۳۵۲ الحدیث: ۲۰۱۴) (3)…حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ جو شخص روزانہ رات کے وقت سورہ واقعہ پڑھے تو وہ فاقے سے ہمیشہ محفوظ رہے گا۔( شعب الایمان التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ فصل فی فضائل السور والایات ۲ / ۴۹۲ الحدیث: ۲۵۰۰) (4)…حضرت عطاء بن ابی رباح رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’ مجھے خبر ملی ہے کہ حضور پر نورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ جو دن کے شروع میں سورہ یس پڑھ لے تو اس کی تمام ضرورتیں پوری ہوں گی۔ (دارمیکتاب فضائل القران باب فی فضل یس ۲ / ۵۴۹ الحدیث: ۳۴۱۸) { و لكن كذبوا:مگر انہوں نے تو جھٹلایا۔} یعنی ایمان لانے کی صورت میں توہم انہیں زمینی اور اسمانی برکتوں سے نوازتے لیکن وہ ایمان نہ لائے اور اللہ عزوجل کے رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام کو جھٹلانے لگے تو ہم نے انہیں ان کے اعمال کی وجہ سے عذاب میں گرفتار کردیا۔ (خازن الاعراف تحت الایۃ: ۹۶ ۲ / ۱۲۲) وسعت رزق سعادت بھی ہے اور وبال بھی: اس ایت سے ثابت ہوا کہ جب انسان اللہ تعالی کاشکر گزار بندہ ہوتو رزق میں وسعت اور فراخ دستی سعادت ہے اور جب ناشکرا ہو تو یہ اس کے لئے وبال ہے۔ ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالی ہے ’’ و اذ تاذن ربكم لىن شكرتم لازیدنكم و لىن كفرتم ان عذابی لشدید‘‘ (ابراہیم:۷) ترجمہ کنزالعرفان: اور یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان فرما دیا کہ اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گااور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔