Surah Al Ma'arij Ayat 19 (70:19)
The Ascending Stairways · Juz 29 · Makki
اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًا 19
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک آدمی بڑا بے صبرا حریص پیدا کیا گیا ہے ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبے شک آدمی بنایا گیا ہے بڑا بے صبرا حریص ۔
Tafseer (Urdu)
{ ان الانسان خلق هلوعا: بیشک آدمی بڑا بے صبرا حریص پیدا کیا گیا ہے۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک انسان بڑا بے صبرا اور حریص پیدا کیا گیا ہے کہ جب اسے تنگ دستی اور بیماری وغیرہ کی صورت میں کوئی برائی پہنچتی ہے تو وہ سخت گھبرانے والاہوجاتا ہے اور جب اسے دولت مندی ومال اور صحت و تندرستی کی صورت میں کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو وہ اسے اپنے پاس روک رکھنے والاہوجاتا ہے یعنی انسان کی حالت یہ ہے کہ جب اسے کوئی ناگوار حالت پیش آتی ہے تو وہ اس پر صبر نہیں کرتا اور جب اسے مال ملتا ہے تو وہ اس کو خرچ نہیں کرتا۔( مدارک المعارج تحت الایۃ: ۱۹-۲۱ ص۱۲۸۰ خازن المعارج تحت الایۃ: ۱۹-۲۱ ۴ / ۳۰۹ ملتقطا) غریبی اور بیماری کی حالت میں شکوہ شکایت کرنے سے بچا جائے: اس سے معلوم ہوا کہ اگرکسی شخص کو زندگی میں کبھی غربت تنگدستی اور ناداری کا سامنا ہو یا کسی بیماری اور مرض وغیرہ میں مبتلا ہو جائے تو وہ اس پر بے صبری اور بے قراری کا مظاہرہ کرنے اور شکوہ شکایت کرنے سے بچے اور ان حالات میں اللہ تعالی کی رضاپر راضی رہے البتہ اس کایہ مطلب نہیں کہ انسان تنگدستی دور کرنے کے لئے محنت اور کوشش کرنا چھوڑ دے اور بیماری کا علاج کروانا ترک کر دے بلکہ اسے چاہئے کہ تنگدستی دور کرنے کے لئے محنت اور جدوجہد بھی کرتا رہے اور اپنے مرض کا علاج بھی کرواتا رہے اور اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی کی بارگاہ میں اسانی اور شفا ملنے کی دعا بھی کرتا رہے اور جب اللہ تعالی اسے فراخ دستی اور شفا عطا فرمادے تو اسے چاہئے کہ اللہ تعالی کا شکر ادا کرے اور ہر دم اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں مصروف رہے اور اس کا دیا ہوا مال اسی کی راہ میں خرچ کرتا رہے۔