Surah Al Ma'arij Ayat 22 (70:22)
The Ascending Stairways · Juz 29 · Makki
اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ 22
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariمگر وہ نمازی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanمگر نمازی۔
Tafseer (Urdu)
{الا المصلین : مگر نمازی۔} یہاں سے ان لوگوں کے بارے میں بیان کیا گیا ہے جن میں اس سے پہلی ایات میں بیان کی گئی حالت یعنی حرص اور بے صبری نہیں پائی جاتی اور یہ وہ لوگ ہیں جن میں یہ اٹھ اوصاف پائے جاتے ہو ں : (1)…فرض نمازیں پابندی کے ساتھ ادا کرنا۔ (2)…اپنے مال سے واجب صدقات ادا کرنا۔ (3)…انصاف کے دن یعنی قیامت کی تصدیق کرنا۔ (4)…اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرنا۔ (5)… شرمگاہوں کی حرام کاری سے حفاظت کرنا۔ (6)…امانت اور عہد کی حفاظت کرنا۔ (7)…صدق و انصاف کے ساتھ گواہی پر قائم رہنا۔ (8)… نماز کی حفاظت کرنا۔ ان اوصاف کی تفصیل اگلی ایات میں مذکور ہے۔ {الذین هم على صلاتهم دآىمون : جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرنے والے ہیں ۔} اس ایت میں پہلا وصف بیان ہوا کہ (ان لوگوں میں حرص اور بے صبری نہیں پائی جاتی) جو اپنے اوپر فرض پانچوں نمازیں ان کے اوقات میں پابندی سے ادا کرتے ہیں ۔(تفسیر کبیر المعارج تحت الایۃ: ۲۳ ۱۰ / ۶۴۴ خازن المعارج تحت الایۃ: ۲۳ ۴ / ۳۰۹ ملتقطا) نماز حرص اور ہوس سے بچنے کا ذریعہ ہے: اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی مومن بندے کو نماز کی برکت سے دنیوی عیوب مثلاحرص اورہوس وغیرہ سے بچالے گا۔احادیث میں پانچوں نمازیں اپنے وقت میں پابندی کے ساتھ ادا کرنے کی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے چنانچہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’پانچ نمازیں اللہ تعالی نے بندوں پر فرض کیں جس نے اچھی طرح وضو کیا اور وقت میں نمازیں پڑھیں اور رکوع و خشوع کو پورا کیا تو اس کے لیے اللہ تعالی نے اپنے ذمہ کرم پر عہد کر لیا ہے کہ اسے بخش دے اور جس نے نہ کیا اس کے لیے عہد نہیں چاہے بخش دےچاہے عذاب کرے۔(مسند امام احمد مسند الانصار حدیث عبادۃ بن الصامت رضی اللہ عنہ ۸ / ۳۹۷ الحدیث:۲۲۷۵۶) اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ اللہ عزوجل فرماتا ہے:’’ میرے بندے کا میرے ذمہ کرم پر عہد ہے کہ اگر وہ وقت میں نماز قائم رکھے تو میں اسے عذاب نہ دوں اور بے حساب جنت میں داخل کروں ۔(کنز العمال کتاب الصلاۃ قسم الاقوال الباب الاول الفصل الثانی ۴ / ۱۲۷ الحدیث: ۱۹۰۳۲)