Surah Al Ma'arij Ayat 24 (70:24)
The Ascending Stairways · Juz 29 · Makki
وَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌﭪ 24
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور وہ جن کے مال میں ایک معلوم حق ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور وہ جن کے مال میں ایک معلوم حق ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و الذین فی اموالهم حق معلوم: اور وہ جن کے مال میں ایک معلوم حق ہے۔} یہاں سے دوسرا وصف بیان کیا گیا چنانچہ اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ (ان لوگوں میں حرص اور بے صبری نہیں پائی جاتی) جن کے مال میں سائل اور محروم کے لئے ایک معلوم اور معین حق ہے ۔ معلوم حق سے مراد زکوۃ ہے جس کی مقدار معلوم ہے یا اس سے وہ صدقہ مراد ہے جو آدمی اپنے اپ پر معین کرلے اور اسے معین اوقات میں ادا کیا کرے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مستحب صدقات کیلئے اپنی طرف سے وقت معین کرنا شریعت میں جائز اور قابل تعریف ہے۔سائل سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے وقت سوال کرے اور محروم سے مراد وہ شخص ہے جو حاجت کے باوجود شرم و حیا کی وجہ سے نہیں مانگتا اور اس کی محتاجی ظاہر نہیں ہوتی۔( تفسیر کبیر المعارج تحت الایۃ: ۲۴-۲۵ ۱۰ / ۶۴۵ خازن المعارج تحت الایۃ: ۲۴-۲۵ ۴ / ۳۱۰ ملتقطا) فقیروں مسکینوں اور محتاجوں کا خیال رکھیں : اس ایت سے معلوم ہو اکہ فقیروں مسکینوں اور محتاجوں کا خیال رکھنا چاہئے اور انہیں اپنے مالوں میں سے کچھ نہ کچھ مال دیتے رہنا چاہئے اسی سلسلے میں یہاں 3احادیث ملاحظہ ہوں : (1)…حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اپنے مال کی زکاۃ نکالو کہ وہ پاک کرنے والی ہے تجھے پاک کر دے گی اور رشتہ داروں سے اچھا سلوک کر اور مسکین پڑوسی اور سائل کا حق پہچانو۔( مسند امام احمد مسند انس بن مالک رضی اللہ عنہ ۴ / ۲۷۳ الحدیث: ۱۲۳۹۷) (2)…حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے روایت ہےرسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’فقیر ہرگز ننگے بھوکے ہونے کی تکلیف نہ اٹھائیں گے مگر مال داروں کے ہاتھوں سن لو! ایسے مالداروں سے اللہ تعالی سخت حساب لے گا اور انہیں دردناک عذاب دے گا۔( معجم الاوسط باب الدال من اسمہ: دلیل ۲ / ۳۷۴ الحدیث: ۳۵۷۹) (3)… حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن مالداروں کے لیے محتاجوں کے ہاتھوں سے خرابی ہے۔ محتاج عرض کریں گے ہمارے حقوق جو تو نے ان پر فرض کیے تھے انہوں نے ظلما نہ دیے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا ’’مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے کہ تمہیں اپنا قرب عطا کروں گا اور انھیں دور رکھوں گا۔( معجم الاوسط باب العین من اسمہ: عبید ۳ / ۳۴۹ الحدیث: ۴۸۱۳)