Surah Al Ma'arij Ayat 36 (70:36)
The Ascending Stairways · Juz 29 · Makki
فَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَ 36
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو ان کافروں کو کیا ہوا تمہاری طرف تیز نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو ان کافروں کو کیا ہوا تمہاری طرف تیز نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{ فمال الذین كفروا: تو ان کافروں کو کیا ہوا۔}شان نزول: یہ ایت کفار کی اس جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جو رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے گرد حلقے باندھ کر گروہ کے گروہ جمع ہوتے تھے اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مبارک کلام سن کر اسے جھٹلاتے مذاق اڑاتے اور کہتے تھے کہ اگر یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے جیسا کہ محمد (مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) فرماتے ہیں تو ہم ضرور ان سے پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ اس ایت اور ا س کے بعد والی تین ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان کافروں کا کیا حال ہے جو آپ کے پاس بیٹھتے بھی ہیں اور گردنیں اٹھا اٹھا کر دیکھتے بھی ہیں پھر بھی جو آپ سے سنتے ہیں اس سے نفع نہیں اٹھاتے۔کیا ان میں سے ہر شخص یہ طمع کرتا ہے کہ اسے ایمان والوں کی طرح چین کے باغ میں داخل کیا جائے گا!ہرگزاسے داخل نہیں کیا جائے گا (کیونکہ) ہم نے جس طرح سب ادمیوں کو منی سے پیدا کیا اسی طرح انہیں بھی منی سے پیدا کیا ہے اور صرف منی سے پیدا ہو جانا جنتی ہونے کا سبب نہیں بلکہ جنت میں داخل ہونے کا ذریعہ تو ایمان اور نیک اعمال ہیں اور جب وہ ایمان ہی نہیں لائے تو حکمت والے رب تعالی کے یہ شایان شان کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ انہیں جنت میں داخل کر دے۔( مدارک المعارج تحت الایۃ : ۳۶-۳۹ ص۱۲۸۱ خازن المعارج تحت الایۃ: ۳۶-۳۹ ۴ / ۳۱۰ تفسیر کبیر المعارج تحت الایۃ: ۳۶-۳۹ ۱۰ / ۶۴۶-۶۴۷ ملتقطا) کلام دل میں کب اثر کرتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ کلام دل میں تب ہی اثر کرتا ہے جب کہ کلام کرنے والے کا وقار دل میں موجود ہو ان کفار کے دلوں میں چونکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا وقار نہ تھا اس لئے وہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے وعظ سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔