Surah Nuh Ayat 2 (71:2)
Noah · Juz 29 · Makki
قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ 2
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاس نے فرمایا: اے میری قوم!بیشک میں تمہارے لیے کھلاڈر سنانے والا ہوں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاس نے فرمایا اے میری قوم میں تمہارے لیے صریح ڈر سنانے والا ہوں ۔
Tafseer (Urdu)
{ قال یقوم: اس نے فرمایا: اے میری قوم!} اس ایت اور ا س کے بعد والی دو ایات میں حضرت نوح علیہ الصلوۃ و السلام کی طرف سے اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل کے بارے میں بیان کیا گیا ہےچنانچہ ان ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ’’ اے میری قوم!میں تمہیں اللہ تعالی کے عذاب سے کھلاڈر سنانے والا ہوں اور تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم اللہ تعالی کی وحدانیت کا اقرار کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ اوراس کی نافرمانیوں سے بچ کراس سے ڈرو تا کہ وہ تم پر غضب نہ فرمائے اور ان تمام باتوں میں میرا حکم مانو جنہیں کرنے کا کہوں اور جنہیں کرنے سے منع کروں ۔ اگر تم نے میرے احکامات کی تعمیل کی اور جو چیزیں دے کر میں تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں تم نے ان کی تصدیق کی تو اللہ تعالی تمہارے کچھ وہ گناہ بخش دے گا جو تم سے ایمان لانے تک صادر ہوئے ہوں گے یا وہ گناہ بخش دے گا جو بندوں کے حقوق سے متعلق نہ ہوں گے اور اللہ تعالی موت کے وقت تک تمہیں مہلت دے گا کہ اس دوران تم پر قحط وغیرہ کی صورت میں کوئی عذاب نہ فرمائے گا لہذا تم عذاب انے سے پہلے اللہ تعالی کی اطاعت و عبادت کرنے میں جلدی کر لو کیونکہ جب اللہ تعالی کا وعدہ آجاتا ہے تو اسے موخر نہیں کیا جاتا اگر تم اس بات کو جانتے تو ضرور ایمان لے آتے۔( خازن نوح تحت الایۃ : ۲-۴ ۴ / ۳۱۱ مدارک نوح تحت الایۃ: ۲-۴ ص۱۲۸۲ ابن کثیر نوح تحت الایۃ: ۲-۴ ۸ / ۲۴۵ ملتقطا)