Surah Al Jin Ayat 10 (72:10)
The Jinn · Juz 29 · Makki
وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا 10
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یہ کہ ہمیں نہیں معلوم کہ کیا زمین میں رہنے والوں سے کسی برائی کا ارادہ فرمایا گیا ہے یا ان کے رب نے ان کے ساتھ کسی بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یہ کہ ہمیں نہیں معلوم کہ زمین والوں سے کوئی برائی کا ارادہ فرمایا گیا ہے یا ان کے رب نے کوئی بھلائی چاہی ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ و انا لا ندری اشر ارید بمن فی الارض: اور یہ کہ ہمیں نہیں معلوم کہ کیا زمین میں رہنے والوں سے کسی برائی کا ارادہ فرمایا گیا ہے۔} اس ایت کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ ایمان قبول کرنے والے جنات کو یہ ڈر ہوا کہ زمین پر رہنے والے بہت سارے لوگ ایمان نہیں لائیں گےاس پر انہوں نے اپنی قوم سے کہا ’’ہم نہیں جانتے کہ جس قران پر ہم ایمان لائے ہیں زمین پر رہنے والے ا س کا انکار کرتے ہیں یا اس پر ایمان لاتے ہیں ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ابلیس نے کہاکہ ہمیں نہیں معلوم کہ ہماری اس بندش اور روک سے اللہ تعالی نے زمین والوں پر عذاب نازل کرنے کا ارادہ فرمایا ہے یا ان کی طرف کسی رسول کو بھیجنے کاا رادہ فرمایا ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ جنات نے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تلاوت سننے سے پہلے اپس میں کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو انسانوں کی طرف بھیج کر ان کے ساتھ برائی کا ارادہ فرمایا گیا ہے یا ان کی بھلائی چاہی گئی ہے کیونکہ اگر لوگ انہیں جھٹلائیں گے تو وہ اپنے جھٹلانے کی وجہ سے سابقہ امتوں کی طرح ہلاک کر دئیے جائیں گے اور اگر ایمان لے ائیں گے تو ہدایت پا جائیں گے۔( تفسیر قرطبی الجن تحت الایۃ: ۱۲ ۱۰ / ۱۲ الجزء التاسع عشر )