Surah Al Jin Ayat 11 (72:11)
The Jinn · Juz 29 · Makki
وَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَؕ-كُنَّا طَرَآىٕقَ قِدَدًا 11
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یہ کہ ہم میں کچھ نیک ہیں اور کچھ اس کے علاوہ ہیں ، ہم مختلف راہوں میں بٹے ہوئے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یہ کہ ہم میں کچھ نیک ہیں اور کچھ دوسری طرح کے ہیں ہم کئی راہیں پھٹے ہوئے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و انا منا الصلحون : اور یہ کہ ہم میں کچھ نیک ہیں ۔} اس ایت کی ایک تفسیریہ ہے کہ ایمان قبول کرنے والے جنات نے اپنے ساتھیوں کورسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایمان لانے کی دعوت دینے کے بعد ایک دوسرے سے کہا کہ قرآن کریم سننے کے بعد ہم میں کچھ مخلص مومن متقی اورابرار ہیں اور کچھ کامل نیک نہیں ہیں اور ہم مختلف مذاہب کی طرح مختلف احوال میں بٹے ہوئے ہیں ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ جنات نے کہا کہ قران کریم سننے سے پہلے ہم میں سے کچھ جنات طبعی طور پر نیک سیرت ہیں اور دوسروں کے ساتھ معاملات کرنے میں نیکی اور بھلائی کی طرف مائل ہیں اور کچھ ان کی طرح نیک سیرت نہیں ہیں اور ہم مختلف حالتوں میں بٹے ہوئے ہیں ۔ تیسری تفسیر یہ ہے کہ جنات نے کہا کہ قران کریم سننے سے پہلے ہم میں سے کچھ جنات حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لانے والے اوراللہ تعالی کی وحدانیت کا اقرار کرنے والے ہیں اور کچھ کافر بھی ہیں اور ہم مختلف دینوں میں بٹے ہوئے ہیں ۔( تفسیر قرطبی الجن تحت الایۃ : ۱۱ ۱۰ / ۱۲ الجزء التاسع عشر جلالین الجن تحت الایۃ: ۱۱ ص۴۷۶ مدارک الجن تحت الایۃ: ۱۱ ص۱۲۸۸-۱۲۸۹ ابو سعود الجن تحت الایۃ: ۱۱ ۵ / ۷۷۸ ملتقطا) {و انا ظننا: اور یہ کہ ہمیں یقین ہوگیا ہے۔} جنات نے کہا کہ اللہ تعالی کی ایات میں غورو فکر کرنے کے بعد ہمیں یقین ہوگیا ہے کہ ہم زمین کے کسی کنارے میں بھی رہ کر اللہ تعالی کو ہمارے بارے میں اپنا ارادہ پورا کرنے سے بے بس نہیں کرسکتے اور نہ زمین سے اسمان کی طرف بھاگ کر اسے بے بس کرسکتے ہیں ۔( روح البیان الجن تحت الایۃ: ۱۲ ۱۰ / ۱۹۵)