Surah Al Jin Ayat 8 (72:8)
The Jinn · Juz 29 · Makki
وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًا 8
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یہ کہ ہم نے آسمان کو چھوا تو اسے پایا کہ سخت پہرے اور آگ کی چنگاریوں سے بھردیا گیا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یہ کہ ہم نے آسمان کو چھوا تو اسے پایا کہ سخت پہرے اور آگ کی چنگاریوں سے بھردیا گیا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و انا لمسنا السمآء: اور یہ کہ ہم نے آسمان کو چھوا۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کاخلاصہ یہ ہے کہ جنات نے کہا: ہم نے اپنی عادت کے مطابق آسمان والوں کا کلام سننے کیلئے آسمان دنیا پر جانا چاہا تو اسے یوں پایا کہ فرشتوں کے سخت پہرے اور آگ کی چنگاریوں سے بھردیا گیا ہے تاکہ جنات کو آسمان والوں کی باتیں سننے کے لئے آسمان تک پہنچنے سے روکا جائے حالانکہ ہم نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تشریف اوری سے پہلے آسمان میں فرشتوں کی باتیں سننے کے لیے پہرے اور اگ کی چنگاریوں سے خالی کچھ جگہوں پر بیٹھ جایاکرتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تشریف اوری کے بعد وہ جگہیں بھر دی گئی ہیں لہذاب جو کوئی سننے کی کوشش کرے گا تو وہ اپنی تاک میں ستارے کی صورت میں آگ کاشعلہ پائے گا جس سے اس کومارا جائے۔( تفسیر قرطبی الجن تحت الایۃ: ۸-۹ ۱۰ / ۱۰-۱۱ الجزء التاسع عشر خازن الجن تحت الایۃ: ۸-۹ ۴ / ۳۱۷ ملتقطا) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں : ’’جن اسمانوں کی طرف چڑھتے اور انتہائی غور سے وحی سنتے اورایک کلمہ سن کر 9کلمے اپنی طرف سے ملالیتےایک کلمہ تو حق ہوتا لیکن جو اضافہ کرتے وہ باطل ہوتا۔ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بعثت کے بعد انہیں وہاں جانے سے روک دیاگیاانہوں نے یہ معاملہ ابلیس سے ذکر کیا اور اس سے پہلے انہیں ستاروں سے نہیں مارا جاتا تھا۔ابلیس نے کہا کہ ضرور زمین میں کوئی نیا واقعہ رونماہوا ہے جس کی وجہ سے یہ رکاوٹ ائی ہے چنانچہ اس نے اپنا لشکر بھیجاانہوں نے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو پہاڑوں کے درمیان (یا مکہ میں ) نماز پڑھتے ہوئے پایاپھر ا س لشکر نے ابلیس سے ملاقات کر کے یہ بات اسے بتائی تو ا س نے کہا یہی وہ نئی بات ہے جو زمین میں پیدا ہوئی ہے۔( ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ الجن ۵ / ۲۱۵ الحدیث: ۳۳۳۵)